چراغِ ادب اور عہدِ زوال ۔۔۔!
زمانے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اندھیرے بڑھ گئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں نے اندھیروں کو روشنی سمجھنا شروع کر دیا ہے۔جب قومیں اپنی فکری سمت کھونے لگتی ہیں تو ان کے بازار آباد ہو جاتے ہیں مگر اذہان ویران ہونے لگتے ہیں۔ شور بڑھ
قلم کی دنیا کے جعلی وارث
انسانی تاریخ میں جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی۔ اس نے زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ نئے چیلنجز بھی پیدا کیے۔مصنوعی ذہانت بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ جس نے علم، تحقیق، معلومات اور تخلیقی معاونت کے میدان میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔
کون جیتا کون ہارا
امریکہ،ایران،اسرائیل چپقلش میں جیت کس کی ہوئی۔ہاں جذباتیت میں لتھڑےجو جی میں آئے،مرضی ہے،کہتے رہیں۔سوال اپنی جگہ کھڑا ہے کہ اس سارے کھیل،جنگ وجدل،پٹ سیاپے سے حاصل کیا ہوا۔ سیانے تو یہی کہتے ہیں لڑائی جھگڑے انتشار میں جیت کسی کی نہیں ہوتی،ہاں وہ سرمایہ دار، جنگ و جدل،جذبات اور
پیف پارٹنرز اور بجھتے ہوئے چراغوں کا سوال ۔۔۔!
تعلیم کسی بھی قوم کی فکری ، معاشی اور تہذیبی زندگی کی بنیاد ہے۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، سوچ سے بنتی ہیں۔ اور سوچ کی فصل ہمیشہ علم کی زمین پر اگتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جن معاشروں نے علم کو محض ضرورت نہیں بلکہ عبادت سمجھا، وقت نے
کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے!
اردو زبان کا یہ محاورہ "کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے” اکثر ایسے اناڑی اور جلد باز کرداروں پر صادق آتا ہے جو جوشِ خطابت میں نقصان تو لاکھوں کا کر بیٹھتے ہیں، مگر حاصلِ کلام کے نام پر ان کے ہاتھ میں صرف پچھتاوا اور جگ ہنسائی
علم سے شعور ، ہنر سے وقار
دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، روبوٹکس اور عالمی مسابقت کا دور ہے، جہاں صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ عملی مہارتیں بھی کامیابی کا معیار بن چکی ہیں۔ اکیسویں صدی کے تقاضے روایتی تعلیمی ڈھانچے سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔
امریکہ ایران کشیدگی کے سو دن اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کو تقریباً سو دن گزر چکے ہیں۔ یہ ایام خطے کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین ادوار میں شمار کیے جا سکتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف علاقائی
دنیا میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی لہر
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو نیو ورلڈ آدر قائم ہوا اس کی قیادت کا سہرا امریکہ کے سر سجا۔ سابق سویٹ یونین جو آجکل روس کی شکل میں موجود ہے کو اسکو مشرقی یورپ کا کنٹرول ملا اور باقی مغربی یورپ سمیت
