کون جیتا کون ہارا
امریکہ،ایران،اسرائیل چپقلش میں جیت کس کی ہوئی۔ہاں جذباتیت میں لتھڑےجو جی میں آئے،مرضی ہے،کہتے رہیں۔سوال اپنی جگہ کھڑا ہے کہ اس سارے کھیل،جنگ وجدل،پٹ سیاپے سے حاصل کیا ہوا۔ سیانے تو یہی کہتے ہیں لڑائی جھگڑے انتشار میں جیت کسی کی نہیں ہوتی،ہاں وہ سرمایہ دار، جنگ و جدل،جذبات اور
پیف پارٹنرز اور بجھتے ہوئے چراغوں کا سوال ۔۔۔!
تعلیم کسی بھی قوم کی فکری ، معاشی اور تہذیبی زندگی کی بنیاد ہے۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، سوچ سے بنتی ہیں۔ اور سوچ کی فصل ہمیشہ علم کی زمین پر اگتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جن معاشروں نے علم کو محض ضرورت نہیں بلکہ عبادت سمجھا، وقت نے
کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے!
اردو زبان کا یہ محاورہ "کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے” اکثر ایسے اناڑی اور جلد باز کرداروں پر صادق آتا ہے جو جوشِ خطابت میں نقصان تو لاکھوں کا کر بیٹھتے ہیں، مگر حاصلِ کلام کے نام پر ان کے ہاتھ میں صرف پچھتاوا اور جگ ہنسائی
علم سے شعور ، ہنر سے وقار
دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، روبوٹکس اور عالمی مسابقت کا دور ہے، جہاں صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ عملی مہارتیں بھی کامیابی کا معیار بن چکی ہیں۔ اکیسویں صدی کے تقاضے روایتی تعلیمی ڈھانچے سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔
امریکہ ایران کشیدگی کے سو دن اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کو تقریباً سو دن گزر چکے ہیں۔ یہ ایام خطے کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین ادوار میں شمار کیے جا سکتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف علاقائی
دنیا میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی لہر
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو نیو ورلڈ آدر قائم ہوا اس کی قیادت کا سہرا امریکہ کے سر سجا۔ سابق سویٹ یونین جو آجکل روس کی شکل میں موجود ہے کو اسکو مشرقی یورپ کا کنٹرول ملا اور باقی مغربی یورپ سمیت
چپیڑ نامہ ۔۔۔!
وقت بھی عجب شے ہے۔ نہ کسی کے لیے ٹھہرتا ہے، نہ کسی کی ضد مانتا ہے، اور نہ ہی کسی طالب علم کے"کل سے پکا آغاز” والے وعدوں پر اعتبار کرتا ہے۔یہ اپنی بے نیازی سے گزرتا رہتا ہے اور پیچھے ہم جیسے لوگ رہ جاتے ہیں جو ماضی
سیلاب کی دستک: دعووں سے آگے بڑھ کر عمل کا وقت
پاکستان ایک بار پھر مونسون کے موسم کے دہانے پر کھڑا ہے۔ محکمہ موسمیات اور متعلقہ ادارے معمول سے زیادہ بارشوں، پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی
