پیف پارٹنرز اور بجھتے ہوئے چراغوں کا سوال ۔۔۔!
تعلیم کسی بھی قوم کی فکری ، معاشی اور تہذیبی زندگی کی بنیاد ہے۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، سوچ سے بنتی ہیں۔ اور سوچ کی فصل ہمیشہ علم کی زمین پر اگتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جن معاشروں نے علم کو محض ضرورت نہیں بلکہ عبادت سمجھا، وقت نے
علم سے شعور ، ہنر سے وقار
دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، روبوٹکس اور عالمی مسابقت کا دور ہے، جہاں صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ عملی مہارتیں بھی کامیابی کا معیار بن چکی ہیں۔ اکیسویں صدی کے تقاضے روایتی تعلیمی ڈھانچے سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔
چپیڑ نامہ ۔۔۔!
وقت بھی عجب شے ہے۔ نہ کسی کے لیے ٹھہرتا ہے، نہ کسی کی ضد مانتا ہے، اور نہ ہی کسی طالب علم کے"کل سے پکا آغاز” والے وعدوں پر اعتبار کرتا ہے۔یہ اپنی بے نیازی سے گزرتا رہتا ہے اور پیچھے ہم جیسے لوگ رہ جاتے ہیں جو ماضی
پیف پارٹنرز کی مؤدبانہ گزارش ۔۔۔!
"جناب چیئرمین پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن !سفیرانِ علم کی اس مؤدبانہ گزارش پر دیدۂ دل وا فرمائیے اور شراکت داروں کے اضطراب کو نویدِ سکون سے ہمکنار کیجیے۔” یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایک تعلیمی ادارہ صرف اینٹوں، سیمنٹ اور لوہے کا بے جان ڈھانچہ نہیں ہوتا بلکہ یہ
"وارثانِ بساطِ سخن کے نام: ڈاکٹر سہیل کا چراغِ راہ”
ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ آنے والے زمانوں کے فکری شعور پر بھی اپنی گہری چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر آغا سہیل اردو ادب کے انہی ممتاز، سنجیدہ اور کثیرالجہت ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے افسانوی
