تعلیم کسی بھی قوم کی فکری ، معاشی اور تہذیبی زندگی کی بنیاد ہے۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، سوچ سے بنتی ہیں۔ اور سوچ کی فصل ہمیشہ علم کی زمین پر اگتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جن معاشروں نے علم کو محض ضرورت نہیں بلکہ عبادت سمجھا، وقت نے انہیں زوال کے اندھیروں سے نکال کر عروج کے اجالوں میں داخل کیا۔
اکیسویں صدی میں علم صرف کتاب کا نام نہیں رہا، یہ معیشت کی سانس بن چکا ہے۔ جہاں ریاستیں اپنی ترجیحات درست رکھتی ہیں، وہاں علم انسان کو سرمایہ بنا دیتا ہے، اور جہاں ترجیحات بکھر جائیں، وہاں انسان وسائل کے باوجود محروم رہ جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی بڑھتی ہے اور وسائل ہمیشہ محدود رہتے ہیں ، وہاں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ایک ایسا دروازہ کھولا ہے جس سے لاکھوں بچوں نے روشنی دیکھی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے نجی شعبے کے ساتھ مل کر تعلیم کو ان ہاتھوں تک پہنچایا ہے جہاں خواب تو تھے مگر راستے نہیں تھے ۔
مالی سال 2026-27 میں یہ پورا نظام ایک نئے امتحان سے گزر رہا ہے۔ امتحان کتابوں کا نہیں ، نیتوں اور ترجیحات کا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وسائل کتنے ہیں، سوال یہ ہے کہ روشنی کو کتنا ضروری سمجھا گیا ہے۔ پیف پارٹنرز کہتے ہیں کہ فی طالب علم معاونت وہی پرانی ہے، مگر وقت بدل چکا ہے۔ وقت نے مہنگائی کی شکل میں ہر شے کی قیمت بدل دی ہے ، مگر تعلیمی سہولتیں اسی پرانی جگہ کھڑی ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں درد جنم لیتا ہے۔
جب بجلی مہنگی ہو، ایندھن مہنگا ہو ، کتاب مہنگی ہو، اور استاد کا گھر چلانا مشکل ہو جائے، تو پھر تعلیم صرف ایک نظام نہیں رہتی، ایک آزمائش بن جاتی ہے۔ اور آزمائش ہمیشہ کمزور اداروں کو نہیں، مضبوط خوابوں کو بھی تھکا دیتی ہے یہ ادارے دیہات کی مٹی میں وہ چراغ جلا رہے ہیں جنہیں بجھنے سے بچانے کی ذمہ داری صرف ان کی نہیں، پوری ریاست کی ہے۔ مگر چراغ تب تک روشن رہتے ہیں جب تک تیل وقت پر ملتا رہے۔
پیف پارٹنرز کا مطالبہ سادہ ہے، مگر اس کے اندر ایک پوری دنیا سمٹی ہوئی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مالی معاونت حقیقت کے قریب ہو جائے، تاکہ تعلیم کاغذ سے نکل کر زندگی میں سانس لے سکے۔
80 ارب روپے کا ذکر محض اعداد نہیں، یہ اس امید کا اظہار ہے جس میں ہزاروں سکول، لاکھوں بچے اور سینکڑوں خواب جڑے ہوئے ہیں۔
دنیا نے تعلیم کو ہمیشہ سہارا دیا ہے، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ جو قومیں کتاب سے منہ موڑ لیں، وہ وقت کے ساتھ اپنی سمت کھو دیتی ہیں۔ اور جو قومیں کتاب کو تھام لیں، وقت ان کے سامنے جھک جاتا ہے۔
مگر یہاں ایک اور حقیقت بھی ہے، تعلیم صرف پیسہ نہیں مانگتی، یہ اعتماد بھی مانگتی ہے۔ نگرانی ، شفافیت اور معیار وہ ستون ہیں جن کے بغیر کوئی بھی تعلیمی عمارت زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔
استاد اس پورے نظام کی اصل صدا ہے۔ اگر استاد تھک جائے تو نصاب خاموش ہو جاتا ہے، اور اگر استاد کو سہارا مل جائے تو خاموش دیواریں بھی بولنے لگتی ہیں۔
اصل مسئلہ وسائل کا نہیں، احساس کا ہے۔ جب احساس زندہ ہو تو کم وسائل بھی روشنی بن جاتے ہیں، اور جب احساس کمزور ہو تو زیادہ وسائل بھی اندھیرا نہیں روک سکتے۔
تعلیم دراصل وہ سرمایہ ہے جو خرچ نہیں ہوتا، بڑھتا ہے۔ مگر یہ اضافہ وقت مانگتا ہے، اور وقت ہمیشہ ان قوموں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جو اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتاب دیکھنا چاہتی ہیں۔
اور پھر آخر میں بات کسی مطالبے کی نہیں رہتی، بات ایک دعا بن جاتی ہے۔ ایسی دعا جو لفظوں میں نہیں، فیصلوں میں قبول ہوتی ہے۔
ایک ایسی دعا کہ جس میں بچے، استاد، اور کتاب ، تینوں ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جب نظریں صرف حکومت کی طرف نہیں رہتیں، وقت کی طرف بھی اٹھتی ہیں۔
اور وقت ہمیشہ خاموش ہوتا ہے، مگر فیصلہ ضرور دیتا ہے۔
اسی خاموشی میں ایک گزارش ، ایک التماس، اور ایک امید موجود ہے کہ
اگر تعلیم کو واقعی زندگی سمجھا گیا، تو یہ قوم کبھی اندھیرے میں نہیں رہے گی۔
اور اگر تعلیم کو محض نظام سمجھا گیا، تو آنے والے وقت میں سوال زیادہ ہوں گے، جواب کم ۔ !
اور اسی امید کے آخری کنارے پر، ایک خاموش سی صدا اٹھتی ہے ، نہ شور میں ، نہ نعرے میں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے :-
محترمہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے حضور یہ عرض ہے کہ یہ معاملہ صرف پالیسی یا بجٹ کا نہیں، یہ ان چراغوں کا سوال ہے جو دیہات کی دھول میں جل رہے ہیں ، یہ ان خوابوں کا سوال ہے جو کتاب سے جڑے ہیں ، یہ ان اساتذہ کا سوال ہے جو کم روشنی میں بھی روشنی بانٹ رہے ہیں۔
پیف پارٹنرز کی یہ آواز کسی دباؤ کی نہیں، ایک ذمہ داری کی یاد دہانی ہے ۔ ایسی ذمہ داری جو نسلوں کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔
التماس یہی ہے کہ ان اداروں کو سہارا دیا جائے ، تاکہ علم کا یہ سفر رکے نہیں، اور یہ چراغ بجھنے نہ پائیں۔
کیونکہ چراغ بجھ جائیں تو اندھیرا صرف کمروں میں نہیں، وقت کے اندر اتر آتا ہے۔
اور وقت کے اندھیرے پھر نسلوں سے حساب لیتے ہیں۔
لہٰذا یہ درخواست نہیں، ایک خاموش امید ہے ، کہ تعلیم بچ جائے ، تو آنے والا کل بچ جائے۔
اور اگر تعلیم سنبھل جائے تو یہ قوم خود بخود سنبھل جاتی ہے
