زمانے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اندھیرے بڑھ گئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں نے اندھیروں کو روشنی سمجھنا شروع کر دیا ہے۔
جب قومیں اپنی فکری سمت کھونے لگتی ہیں تو ان کے بازار آباد ہو جاتے ہیں مگر اذہان ویران ہونے لگتے ہیں۔ شور بڑھ جاتا ہے مگر معنی کم ہو جاتے ہیں۔
لفظ باقی رہتے ہیں مگر ان کے اندر کی روح رخصت ہونے لگتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تہذیب کے چراغ مدھم پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔
ہر دور کی شناخت اس کے علم، ادب اور فکر سے ہوتی ہے۔ عمارتیں، سڑکیں اور بازار کسی قوم کی مادی ترقی کا پتہ دیتے ہیں، مگر اس کے ادب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کی روح کس حال میں ہے۔
ادب دراصل کسی معاشرے کے باطن کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب آئینہ دھندلا جائے تو چہرے بھی اپنی اصل صورت کھو دیتے ہیں۔
آج کا انسان معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے مگر معرفت کی بوند کو ترس رہا ہے۔ اس کے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں مگر مکالمہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
وہ بولتا بہت ہے مگر سنتا کم ہے۔ وہ جانتا بہت کچھ ہے مگر سمجھتا کم ہے۔
شاید اسی لیے جدید انسان کی سب سے بڑی محرومی علم کی کمی نہیں بلکہ حکمت کی کمی ہے۔
یہ وہ عہد ہے جہاں ہر شخص اپنی آواز بلند کرنا چاہتا ہے مگر بہت کم لوگ اپنے اندر کی خاموشی کو سننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انسان کی اصل تعمیر شور میں نہیں، سکوت میں ہوتی ہے۔ دریا شور نہیں مچاتے، پھر بھی زندگی بانٹتے ہیں۔ درخت آواز نہیں کرتے، پھر بھی سایہ دیتے ہیں۔ سورج اعلان نہیں کرتا، پھر بھی روشنی پھیلاتا ہے۔ لیکن ہم نے ایسا زمانہ بنا لیا ہے جہاں نمود خدمت سے بڑی اور شہرت کردار سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔
ادب کا تعلق ہمیشہ انسان کے باطن سے رہا ہے۔
ادب نے صرف کہانیاں نہیں سنائیں بلکہ تہذیبوں کی تربیت کی ہے۔ اس نے انسان کو آئینہ دیا تاکہ وہ دوسروں سے پہلے خود کو دیکھ سکے۔ ادب نے سوال پیدا کیے تاکہ انسان جواب تلاش کرے۔ اس نے اضطراب دیا تاکہ شعور بیدار ہو۔ ادب نے کبھی ہجوم کی پیروی نہیں کی بلکہ ہجوم کو راستہ دکھایا ہے۔
لیکن جب ادب بھی بازار کی منطق قبول کر لیتا ہے تو اس کی حیثیت بدل جاتی ہے۔ پھر تحریر فکر کی امانت نہیں رہتی بلکہ توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لفظ سچائی کے سفیر نہیں رہتے بلکہ مقبولیت کے مسافر بن جاتے ہیں۔
اس مرحلے پر ادب زندہ تو رہتا ہے مگر اس کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔
اصل ادیب وہ نہیں جو صرف لکھنا جانتا ہو بلکہ وہ ہے جو اپنے عہد کی نبض پہچانتا ہو۔ قلم محض انگلیوں سے نہیں چلتا، یہ دل، دماغ اور ضمیر کے اشتراک سے حرکت میں آتا ہے۔ اگر ضمیر سو جائے تو قلم جاگتے ہوئے بھی سو جاتا ہے۔ اگر احساس مر جائے تو الفاظ زندہ رہ کر بھی مردہ ہو جاتے ہیں۔
آج تفریح انسانی ضرورت سے بڑھ کر انسانی ترجیح بن چکی ہے۔ تفریح میں کوئی برائی نہیں، مگر جب تفریح فکر کی جگہ لے لے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
جب ہنسی حکمت پر غالب آ جائے ، جب طنز دلیل کا متبادل بن جائے اور جب سنجیدگی کو کمزوری سمجھا جانے لگے تو معاشرہ
آہستہ آہستہ اپنی فکری بنیادوں سے دور ہونے لگتا ہے۔
اسی رجحان نے میڈیا، اسٹیج اور ٹی وی ڈراموں کی دنیا کو بھی ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ غیر معیاری مواد، سطحی مزاح اور غیر سنجیدہ کرداروں کی بھرمار نے نئی نسل کے ذوق پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بعض ہدایت کار اور اداکار ایسے مناظر اور رویے پیش کر رہے ہیں جن میں وقتی شہرت تو مل جاتی ہے مگر فکری تربیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ سنجیدہ مطالعے، اخلاقی اقدار اور ادبی ذوق سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
کردار سازی کی جگہ صرف منظر سازی رہ گئی ہے، اور فکر کی جگہ صرف تاثر۔
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے کو محض تفریح ہی درکار ہے یا تہذیب بھی؟
کیا کامیابی کا معیار صرف ناظرین کی تعداد ہے یا ان کی فکری سطح بھی؟
اگر نئی نسل کو صرف ہنسی، شور اور سطحی مکالمے ہی دیے جائیں تو پھر سوچنے، سمجھنے اور خود کو پہچاننے کی صلاحیت کیسے باقی رہے گی؟
یہ وہ لمحہ ہے جہاں ریاست، حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ میڈیا کے معیار اور ثقافتی سمت پر سنجیدہ توجہ دیں، تاکہ تہذیبی بگاڑ کو روکا جا سکے۔
اس ضمن میں دنیا کی کچھ مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ قطر نے فٹبال کے عالمی ایونٹ کی میزبانی کے دوران یہ عملی پیغام دیا کہ ایک بڑا اور عالمی سطح کا پروگرام بھی اخلاقی اور ثقافتی اصولوں کے ساتھ کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے۔ اس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ غیر ضروری اشتہاری شور، سطحی نمائش اور اخلاقی بے راہ روی کے بغیر بھی بڑے ایونٹس نہ صرف کامیاب ہوتے ہیں بلکہ زیادہ باوقار اور یادگار بھی بن سکتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل اس سوچ کی تردید ہے کہ ترقی صرف بے لگام اظہار اور بے حد آزادی سے مشروط ہے۔
تہذیب کا زوال ہمیشہ تلواروں سے نہیں آتا۔ بعض اوقات قومیں قہقہوں میں بھی اپنی سنجیدگی کھو دیتی ہیں۔
بعض اوقات عمارتیں سلامت رہتی ہیں مگر اقدار منہدم ہو جاتی ہیں۔
بعض اوقات کتابیں موجود ہوتی ہیں مگر مطالعہ مر جاتا ہے۔
اور بعض اوقات ادیب موجود ہوتے ہیں مگر ادب غائب ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ادب محض الفاظ کا ہنر نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ لفظوں کے ذریعے انسان کے باطن تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ ایک اچھی تحریر صرف پڑھی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔ وہ قاری کے ذہن میں سوال اور دل میں روشنی پیدا کرتی ہے۔ ادب اگر انسان کو اپنے آپ سے نہ ملا سکے تو پھر وہ محض عبارت رہ جاتا ہے، بصیرت نہیں بنتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اہلِ فکر اور اہلِ قلم کی قدر کی، انہوں نے زمانے کی تاریکیوں میں بھی اپنا راستہ تلاش کر لیا۔ اور جن قوموں نے فکر کے چراغ بجھا دیے، وہ دولت اور طاقت کے باوجود فکری انتشار کا شکار ہو گئیں۔ اس لیے قلم کی ذمہ داری محض لکھنا نہیں بلکہ راستہ دکھانا بھی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ زیادہ لکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ زیادہ سچ لکھا جائے۔ زیادہ بولا نہیں جائے بلکہ زیادہ سوچا جائے۔
زیادہ مشہور ہونے کی بجائے زیادہ مؤثر بنا جائے۔ کیونکہ شہرت کا سفر مختصر ہوتا ہے جبکہ اثر کا سفر نسلوں تک جاری رہتا ہے۔
معاشرے کی اصل دولت اس کے بینک نہیں بلکہ اس کے خیالات ہوتے ہیں۔ قوموں کی اصل طاقت ان کے ہتھیار نہیں بلکہ ان کے نظریات ہوتے ہیں۔ اور تہذیب کی اصل حفاظت اس کی سرحدیں نہیں بلکہ اس کا ادب کرتا ہے۔ جب ادب کمزور پڑ جائے تو تہذیب یتیم ہونے لگتی ہے۔
آج بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔
آج بھی چراغِ ادب مکمل طور پر بجھا نہیں۔
اس کی لو اگرچہ ہوا کے تیز جھونکوں سے لرز رہی ہے مگر ابھی روشن ہے۔
ضرورت صرف اتنی ہے کہ اہلِ قلم اپنی ذمہ داری کو پہچانیں، اہلِ علم اپنی روایت سے جڑیں اور اہلِ ذوق اپنی فکری میراث کی حفاظت کریں۔
چراغ کبھی سورج نہیں ہوتا، مگر اندھیروں کے خلاف سب سے پہلی مزاحمت ضرور ہوتا ہے۔ ادب بھی ایسا ہی چراغ ہے۔ جب تک یہ روشن ہے، امید باقی ہے۔ لیکن اگر یہ چراغ مدھم پڑ گیا تو عہدِ زوال صرف کتابوں کا موضوع نہیں رہے گا بلکہ ہماری اجتماعی حقیقت بن جائے گا
