"وارثانِ بساطِ سخن کے نام: ڈاکٹر سہیل کا چراغِ راہ”
ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ آنے والے زمانوں کے فکری شعور پر بھی اپنی گہری چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر آغا سہیل اردو ادب کے انہی ممتاز، سنجیدہ اور کثیرالجہت ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے افسانوی
لفظوں کے زہریلے تیر
قومیں صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں رہتی ، اُن کے نظریات ، ادارے اور محافظ بھی اُن کی بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔جب کوئی دشمن کسی ملک کو کمزور کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اُس کے دفاعی اداروں پر حملہ کرتا ہے۔کبھی بارود سے ، کبھی سازش
