موجودہ دور میں سائنسدان اور موجدین اپنی بھر پور کوششوں کی بدولت انسان کے لئے سہولت و آسانی کے اسباب بنانے میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ وقت کے تیزی سے گردش کرتے پہئے نے انسان کو اوجِ ثریا کی بلندیوں تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن انسانیت دن بدن جہالت اور تاریکی کی عمیق غلام گردشوں میں دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ انسانیت کا وجود اور بقا صرف اخلاقی اقدار کی ترویج اور حیات میں ہے لیکن انسان مادیت پرستی کے لالچ میں آ کر حیوان کو بھی مات دے چکا ہے۔ شیطان کے چیلے چانٹوں اوریہو د ونصاریٰ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اسلام کے بنیادی ڈھانچے یعنی شرم و حیا اور مسلمانوں کی عائلی زندگی اور اعلیٰ خاندانی نظام پر کوئی کاری ضرب لگائی جائے ۔ ہمارے نظام پر سب سے پہلا وار سوشل میڈیا کی صورت میں کیا گیا ۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں سوشل میڈیا نے نوجوان نسل میں آن لائن کمائی کے نام پر غیر اخلاقی ، بے ہودہ ، جنسی اور فحش حرکات کی ترویج کرنے کے علاوہ کوئی خاص کردار ادا نہیں کر سکا۔ ٹرانس جینڈر، سٹیج ڈانسر اور قحبہ خانہ کے مخصوص گروہ اب جسمانی نمائش کے ذریعے مقامی کرنسی کی بجائے ڈالرز میں کما رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ گھریلو خواتین نے بھی اسے کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے ، سوشل میڈیا کانٹنٹ (مواد) کے نام پر ٹک ٹاک لائیوو ، اور ٹوئٹر پر جنسیت ابھارنے والی ویڈیوز اور امیجز بھیجنا شروع کر دئیے ہیں ۔
دنیا کے مختلف اداروں کی تحقیقی رپورٹس کے مطابق امریکہ ، برطانیہ جیسے دونوں ممالک پورن مواد کی ٹریفکینگ اور تخلیق میں سب سے آگے ہیں ۔ Monkey insider کی جون 2025ءکی ایک رپورٹ کے مطابق فحش مواد دیکھنے میں پاکستان کا نمبر سات ہے جبکہ انڈیا تیسرے نمبر پر موجود ہے ۔پاکستانی حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً فحش مواد دکھانے والی سائٹس پر پابندیوں کی وجہ سے گو ہماری رینکنگ میں تنزلی دیکھنے میں آرہی ہے لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسا کہ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب، ٹوئٹر(ایکس) اور دیگر پلیٹ فارمز پر سوشل میڈیا لائیو کی صورت میں اس فحش مواد کو حکومت روکنے میں بے بس دکھائی دے رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اگرچہ اپنی پالیسیوں میں فحش اور صریح جنسی مواد پر پابندی عائد کرتے ہیں، تاہم مختصر ویڈیوز، لائیو اسٹریمنگ، اشتہارات اور خفیہ یا نجی گروپس کے ذریعے بڑی مقدار میں ایسا مواد گردش کرتا رہتا ہے۔ بعض اوقات یہ مواد براہِ راست فحش نہیں ہوتا بلکہ جنسی کشش، جسمانی نمائش یا اشتعال انگیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے جس کا مقصد زیادہ ناظرین، لائکس اور مالی فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان نے نوجوانوں میں جسمانی حسن کے غیر حقیقی معیار اور دوسروں سے مسلسل موازنہ کرنے کی عادت کو فروغ دیا ہے۔تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ غیر اخلاقی اور جنسی مواد کی کثرت بعض نوجوانوں میں نشے جیسی وابستگی پیدا کر سکتی ہے۔ مسلسل ایسے مواد کے استعمال سے دماغ کے ان حصوں پر اثر پڑتا ہے جو انعام، توجہ اور جذباتی کنٹرول سے متعلق ہوتے ہیں۔ نتیجتاً تعلیمی کارکردگی، سماجی تعلقات اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بعض مطالعات نے ایسے مواد کے زیادہ استعمال اور ڈپریشن، بے چینی اور تنہائی کے احساس کے درمیان تعلق کی نشاندہی بھی کی ہے، اگرچہ اس تعلق کی شدت افراد اور حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
غیر اخلاقی مواد کا ایک اور اہم پہلو آن لائن استحصال اور ہراسانی ہے۔
ماہرینِ نفسیات، سماجی علوم کے محققین اور بین الاقوامی ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کا غیر متوازن اور غیر ذمہ دارانہ استعمال فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق 2018 سے 2022 کے درمیان نوجوانوں میں مسئلہ انگیز سوشل میڈیا استعمال کی شرح 7 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد ہو گئی۔ یہ تحقیق 44 ممالک کے تقریباً 2 لاکھ 80 ہزار نوجوانوں پر کی گئی تھی۔ مختلف تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو نوجوان روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان میں احساسِ کمتری، تنہائی اور خود اعتمادی میں کمی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ٹوئٹراور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر مصنوعی)(AI) یا فلٹر شدہ جنسی ویڈیوزکو دیکھ کر نوجوان نسل ، جنسیت میں ایسے کھو گئی ہے کہ اپنی خاندانی اور معاشرتی زمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ جنسی ویڈیو ز، اور مخصوص طبقہ فکر کے ہیجان زدہ لائیو شوز دیکھنے کے نتیجے میں نوجوان نسل تو کجا ادھیڑ عمر افراد میں بھی ذہنی دباو¿ اور عدم اطمینان پیدا ہورہا ہے جو بعض صورتوں میں شدید نفسیاتی مسائل کی شکل اختیار کر لیتا ہے،جس کا لامحالہ نتیجہ کسی جنسی جرم کی شکل میں ہی سامنے آتاہے۔
سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں معلومات اور رابطے کے ذرائع کو انتہائی آسان بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی اور جنسی نوعیت کے مواد (Sexual Content) کے پھیلاو¿ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کے مطابق دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی شکل میں جنسی نوعیت کے مواد سے دوچار ہوتی ہے۔ برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر Ofcom کی 2024ءکی رپورٹ کے مطابق 13 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً ایک تہائی نوجوانوں نے گزشتہ سال کے دوران آن لائن جنسی یا عمر کے لحاظ سے نامناسب مواد دیکھنے کی اطلاع دی۔ اسی طرح متعدد مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کم عمری میں ایسے مواد سے مسلسل واسطہ نوجوانوں کی ذہنی نشوونما، تعلقات کے بارے میں تصورات اور رویوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے اداروں اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی شناختوں، بلیک میلنگ، غیر رضامندانہ تصاویر کے تبادلے اور کم عمر افراد کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف متاثرہ افراد کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بعض اوقات خاندانی اور معاشرتی مسائل کا سبب بھی بنتے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی سوشل میڈیا کے منفی اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ طلبہ کا ایک بڑا حصہ روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر صرف کرتا ہے جس کے باعث مطالعے اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے۔ مسلسل نوٹیفکیشنز، ویڈیوز اور تفریحی مواد طلبہ کی توجہ منتشر کرتے ہیں۔ متعدد مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال اور تعلیمی کارکردگی میں کمی کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔ نیند کی کمی، توجہ کی کمی اور وقت کے ضیاع کے باعث امتحانی نتائج بھی متاثر ہوتے ہیں۔سوشل میڈیا کا ایک بڑا نقصان جھوٹی خبروں اور غلط معلومات کا تیز رفتار پھیلاو¿ ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 66 فیصد آن لائن انفلوئنسرز معلومات شیئر کرنے سے پہلے باقاعدہ حقائق کی جانچ نہیں کرتے۔ نتیجتاً افواہیں، من گھڑت خبریں اور گمراہ کن معلومات چند منٹوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس رجحان نے سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر کئی تنازعات کو جنم دیا ہے اور بعض اوقات معاشرتی انتشار کا باعث بھی بنا ہے۔
اخلاقی اور سماجی اعتبار سے بھی سوشل میڈیا کئی چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ فحش مواد تک آسان رسائی، پرائیویسی کی خلاف ورزیاں، بلیک میلنگ، جعلی اکاو¿نٹس اور آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل غیر مناسب مواد کے زیادہ سامنے آنے کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل ایسے مواد کی نمائش معاشرتی رویوں اور اخلاقی اقدار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
سائبر ب±لنگ یا آن لائن ہراسانی بھی سوشل میڈیا کا ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ مختلف عالمی تحقیقات کے مطابق لاکھوں نوجوان آن لائن مذاق، دھمکیوں، تضحیک اور ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے تجربات متاثرہ افراد میں ذہنی دباو¿، خوف، ڈپریشن اور سماجی تنہائی کو بڑھاتے ہیں۔ بعض ممالک میں سائبر ب±لنگ کو نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات سے بھی جوڑا گیا ہے۔سوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا ایک اہم ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ بہت سے افراد روزانہ کئی گھنٹے مختصر ویڈیوز، غیر ضروری مباحث اور تفریحی مواد دیکھنے میں صرف کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی پیداواری صلاحیت، خاندانی تعلقات اور جسمانی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی لت انسان کی توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان جیسے معاشروں میں، جہاں خاندانی اور مذہبی اقدار کو خاص اہمیت حاصل ہے، سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر والدین، اساتذہ اور سماجی ماہرین تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا مو¿قف ہے کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل خواندگی، اخلاقی ذمہ داری اور محفوظ انٹرنیٹ استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ نقصان دہ مواد کی پہچان کر سکیں اور اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
