انسانی تاریخ میں جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی۔ اس نے زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ نئے چیلنجز بھی پیدا کیے۔مصنوعی ذہانت بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ جس نے علم، تحقیق، معلومات اور تخلیقی معاونت کے میدان میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آج چند لمحوں میں وہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ جن کے لیے کبھی گھنٹوں بلکہ دنوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔بلاشبہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز نے اہلِ علم اور اہلِ قلم کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں۔ لیکن یہاں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے۔ کہ ہمارے معاشرے میں اس سہولت کے غلط استعمال نے ایک نئے مسئلے کو جنم دیا ہے۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص کے ہاتھ میں ایک پلیٹ فارم آ چکا ہے۔ اظہارِ رائے ہر فرد کا حق ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اظہارِ رائے اور تخلیقِ فکر کے درمیان موجود فرق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آج فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روزانہ ایسی تحریریں گردش کرتی نظر آتی ہیں۔اور ایسے افراد چیٹ جی پی ٹی سے تحریریں کاپی کر کے سوشل میڈیا پیلٹ فارمز پر شیئر کرتے نظر آئیں گے۔جن کے پاس لکھنے کا تجربہ ہے نہ ہی تخیلقی صلاحیت موجود ہے۔اور وہ سستی شہرت کے لئے اپنے نام سے تحریریں شیئر کر کےراتوں رات بڑے لکھاریوں کی صف میں شمار ہونے کے خواب دیکھتے ہیں۔اور ان کی مصنوعی ذہانت سے تیار تحریریں پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر یہ وہی شخص ہے۔ جو ایک سادہ درخواست یا خبر بھی درست انداز میں نہیں لکھ سکتا۔

یہ کوئی راز نہیں کہ اب بہت سے لوگ مصنوعی ذہانت سے مکمل کالم، مضامین اور تجزیے حاصل کرکے انہیں اپنے نام سے شائع کر دیتے ہیں۔ نہ وہ موضوع پر تحقیق کرتے ہیں۔ نہ مطالعہ، نہ مشاہدہ اور نہ ہی فکری محنت۔ ایک سوال لکھا جاتا ہے اور چند سیکنڈ بعد ایک مکمل تحریر اسکرین پر موجود ہوتی ہے۔ جسے کاپی کرکے اپنے نام کے ساتھ پیش کر دیا جاتا ہے۔ پھر داد وصول کی جاتی ہے۔ تبصرے سمیٹے جاتے ہیں اور خود کو اہلِ قلم کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اصل مسئلہ مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے۔ جو محنت کے بغیر مقام حاصل کرنا چاہتی ہے۔ قلم کی دنیا میں کبھی کوئی شارٹ کٹ نہیں رہا۔ ایک اچھا لکھاری برسوں کے مطالعے، مشاہدے، تجربات اور مسلسل ریاضت کے بعد اپنی شناخت بناتا ہے۔ اس کے الفاظ میں اس کی زندگی بولتی ہے۔ اس کے مشاہدات جھلکتے ہیں اور اس کے خیالات کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ جب کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ تحریر میں الفاظ تو خوبصورت ہو سکتے ہیں۔

لیکن ان میں مصنف کا ذاتی لمس، فکری درد اور تخلیقی انفرادیت موجود نہیں ہوتی۔یہ بات درست ہے کہ دنیا بھر کے صحافی، محققین اور مصنفین مصنوعی ذہانت سے استفادہ کر رہے ہیں۔ لیکن وہ اسے معاون کے طور پر استعمال کرتے ہیں متبادل کے طور پر نہیں۔ وہ معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہیں خاکہ بناتے ہیں۔ لیکن ان کی تحریر ان کی اپنی سوچ، فہم اور تجربے کا عکس ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض لوگ معاونت اور انحصار کے فرق کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایسے افراد تنقید برداشت کرنے کے بجائے خود کو بڑا دانشور ثابت کرنے پر تُلے رہتے ہیں۔ حالانکہ قاری کو دھوکا دینا اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھتے ہیں۔ قاری الفاظ کے پیچھے چھپے ذہن کو پہچان لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ کہاں قلم بول رہا ہے اور کہاں محض ایک مشین کے ترتیب دیے ہوئے جملے موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت زبان دے سکتی ہے مگر احساس نہیں۔ جملے دے سکتی ہے مگر تجربہ نہیں۔ معلومات دے سکتی ہے مگر بصیرت نہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر یہی روش رہی تو نوجوان نسل مطالعے، تحقیق اور فکری تربیت کی بجائے آسان راستے اختیار کرے گی۔ تو ان کی سوچنے کی صلاحیت کمزور پڑ جائے گی۔ اور ہر سوال کا جواب مشین سے لیا جانے لگے گا۔ تو تخلیقی صلاحیتیں بھی آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہوتی جائیں گی۔

مصنوعی ذہانت یقیناً وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اور اس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی انسان کی خادم ہے آقا نہیں ہے۔ اسے سہولت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے شناخت کے لیے نہیں۔ جو لوگ اپنی فکری کمزوریوں کو مصنوعی ذہانت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ شاید وقتی طور پر داد حاصل کر لیں۔ مگر تاریخ ہمیشہ اصل اور نقل کے درمیان فرق کر دیتی ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ قلم کی دنیا میں عزت خریدی نہیں جاتی کمائی جاتی ہے۔مصنوعی ذہانت سے حاصل کیے گئے الفاظ وقتی تالیاں تو بجوا سکتے ہیں۔ لیکن وہ احترام نہیں دلا سکتے جو ایک سچے لکھاری کو اس کی محنت، مطالعے، مشاہدے اور فکری دیانت کے باعث نصیب ہوتا ہے۔ وقت گزر جائے گا ٹیکنالوجیاں بدل جائیں گی۔ نئے پلیٹ فارم آ جائیں گے مگر زندہ وہی تحریریں رہیں گی۔ جن میں انسان کا شعور، احساس، تجربہ اور سچائی شامل ہوگی۔ باقی سب کچھ سکرین پر ابھرنے والے ان الفاظ کی طرح ہوگا جو ایک کلک سے نمودار ہوتے ہیں۔ اور دوسرے کلک سے غائب ہو جاتے ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts