امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کو تقریباً سو دن گزر چکے ہیں۔ یہ ایام خطے کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین ادوار میں شمار کیے جا سکتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف علاقائی سیاست اور سلامتی کے تصورات کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے کردار، دفاعی حکمتِ عملیوں اور بین الاقوامی اتحادوں کے مستقبل پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ اس بحران کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں متضاد آراء موجود ہیں، تاہم ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان واقعات نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور تزویراتی منظرنامے کو گہرے اثرات سے دوچار کیا ہے۔

اس بحران کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی اچانک پیدا ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی تنازعات کا تسلسل ہے۔ متعدد مبصرین کے مطابق اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ، اس کے میزائل پروگرام اور اس کے اتحادی نیٹ ورک کو اپنے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج قرار دیتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسیوں میں ایران کے حوالے سے غیر معمولی ہم آہنگی دیکھی گئی۔ تاہم حالیہ کشیدگی نے یہ بھی ثابت کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ حقائق کو محض عسکری قوت کے ذریعے تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں جتنا بعض حلقے تصور کرتے رہے ہیں۔

علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی اداروں کی مختلف رپورٹس کے مطابق حالیہ بحران کے دوران فضائی حملوں، میزائل کارروائیوں اور ڈرون آپریشنز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ خطے کے مختلف حصوں میں امریکی مفادات، اسرائیلی تنصیبات اور ایران سے وابستہ اہداف مسلسل دباؤ کا شکار رہے۔ اگرچہ مختلف فریقین کی جانب سے نقصانات کے اعداد و شمار میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن اس امر پر عمومی اتفاق موجود ہے کہ یہ کشیدگی گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور مہنگی ثابت ہوئی ہے۔

اس تمام صورتحال میں ایک اہم حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ جدید جنگیں صرف روایتی عسکری محاذوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیتوں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور غیر ریاستی اتحادی نیٹ ورکس نے طاقت کے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری ماہرین اب اس بحران کو صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ جدید جنگی حکمتِ عملیوں کے ایک بڑے امتحان کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

امریکہ کے لیے یہ بحران مالی، سیاسی اور سفارتی اعتبار سے ایک مشکل آزمائش ثابت ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں عسکری موجودگی برقرار رکھنے، بحری بیڑوں کی تعیناتی اور دفاعی نظاموں کی مسلسل فعالیت نے بھاری اخراجات کو جنم دیا ہے۔ دوسری طرف ایران، شدید اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود، اپنے ریاستی اور عسکری ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں کامیاب دکھائی دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین اس صورتحال کو محض عسکری برتری اور کمزوری کے پیمانوں سے جانچنے کے بجائے سیاسی عزم، داخلی استحکام اور علاقائی اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اس بحران کا سب سے نمایاں اثر خلیجی ممالک پر مرتب ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، عمان اور سعودی عرب جیسے ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنی اقتصادی ترقی کو علاقائی استحکام اور عالمی سرمایہ کاری سے جوڑا تھا۔ تاہم موجودہ کشیدگی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خطرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کی معیشت، تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم بحری راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی نے عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔

اس بحران کا ایک اور اہم پہلو امریکی سکیورٹی چھتری کے تصور سے متعلق ہے۔ کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو بنیادی ضمانت سمجھتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ واقعات نے یہ سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ جدید نوعیت کے میزائل اور ڈرون حملوں کے دور میں روایتی دفاعی انتظامات کس حد تک مؤثر رہ سکتے ہیں۔ یہی سوال آج نہ صرف خلیجی دارالحکومتوں بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی زیرِ بحث ہے۔
تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں معمولی کشیدگی بھی عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔ حالیہ بحران نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جغرافیہ آج بھی بین الاقوامی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

اس پورے بحران میں پاکستان کا کردار نسبتاً متوازن اور محتاط رہا ہے۔ پاکستان نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے کے مسائل کا پائیدار حل عسکری تصادم کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور علاقائی تعاون میں مضمر ہے۔ اسلام آباد نے ایک جانب اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا اور دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کو ترجیح دی۔ یہی طرزِ عمل مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید سفارتی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس بحران نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔ یورپ میں توانائی کے تحفظ، عالمی تجارت کے مستقبل اور بڑی طاقتوں کی ترجیحات پر نئی بحث جاری ہے۔ چین اور روس جیسے ممالک بھی اس صورتحال کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہے ہیں، جبکہ دنیا بتدریج ایک ایسے بین الاقوامی نظام کی طرف بڑھتی محسوس ہوتی ہے جہاں طاقت کا ارتکاز ایک مرکز کے بجائے متعدد مراکز میں تقسیم ہو رہا ہے۔

ان سو دنوں کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ جدید دنیا میں عسکری قوت اپنی جگہ اہم سہی، لیکن پائیدار استحکام کا انحصار صرف ہتھیاروں پر نہیں ہوتا۔ سیاسی بصیرت، اقتصادی استحکام، علاقائی تعاون اور داخلی یکجہتی بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ بحران اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے استعمال سے جنگیں تو شروع کی جا سکتی ہیں، لیکن امن اور استحکام کے لیے بالآخر سیاسی حل ہی ناگزیر ہوتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اس پورے بحران کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ عالمی سیاست میں ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ آج پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت اور متوازن سفارت کاری کے باعث ایک منفرد مقام پر کھڑا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کو محض سفارتی کامیابی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے قومی ترقی اور معاشی استحکام کی بنیاد بنانے کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ آنے والے برسوں میں اصل کامیابی اسی بات سے مشروط ہوگی کہ پاکستان اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے سے اپنے قومی مفادات کے لیے کس حد تک عملی فائدہ اٹھا پاتا ہے۔

نویدِ سعید یہی ہے کہ قومی سلامتی کی مضبوط بنیاد یقیناً عسکری قوت، دفاعی تیاری اور ریاستی استحکام سے استوار ہوتی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ہی پائیدار ترقی اور حقیقی خودمختاری حاصل کرتی ہیں جو اپنی عسکری طاقت کو معاشی قوت، داخلی استحکام، عوامی اعتماد اور دانشمندانہ حکمرانی کے ساتھ جوڑ دیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات پاکستان کے لیے محض ایک علاقائی بحران نہیں بلکہ غور و فکر اور درست سمت کے تعین کا ایک اہم موقع بھی ہیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts