دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، روبوٹکس اور عالمی مسابقت کا دور ہے، جہاں صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ عملی مہارتیں بھی کامیابی کا معیار بن چکی ہیں۔ اکیسویں صدی کے تقاضے روایتی تعلیمی ڈھانچے سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ آج وہی قومیں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں جنہوں نے اپنی نئی نسل کو علم کے ساتھ ہنر سے بھی آراستہ کیا ہے۔
پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک کے لیے یہ معاملہ محض تعلیمی نہیں بلکہ قومی بقا اور ترقی کا سوال بن چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پاکستان ہمدردانہ غور کرتے ہوئے کلاس ششم سے ہی بین الاقوامی زبانوں اور عملی مہارتوں کو نصاب کا حصہ بنائے تاکہ ہمارے بچے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد عالمی منڈی میں باوقار مقام حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اگر ایک طالب علم کم عمری ہی سے انگریزی کے ساتھ جاپانی، چینی، کورین، جرمن یا اطالوی زبانوں پر دسترس حاصل کر لے تو اس کے لیے بیرونِ ملک تعلیم، ملازمت اور کاروبار کے مواقع کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
علم انسان کو شعور، آگہی اور بصیرت عطا کرتا ہے، جبکہ ہنر اس علم کو عملی اور قابلِ استعمال شکل دیتا ہے۔ علم چراغ ہے تو ہنر اس چراغ کی روشنی کو زندگی کے عملی میدان میں بروئے کار لانے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ انسانیت اور اسلامی تعلیمات میں علم و ہنر کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم کی پہلی وحی "اقرأ” سے شروع ہوتی ہے، جو علم کی عظمت کا اعلان ہے۔ تاہم اسلام نے محض نظری علم پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عمل، محنت اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھی عزت و وقار بخشا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر رزق نہیں کھایا۔” اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام خود انحصاری، محنت اور ہنرمندی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔
تاریخ اور مذہب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ انبیائے کرام علیہم السلام کو مختلف ہنروں اور پیشوں سے بھی نوازا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو زراعت کا علم عطا ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے کشتی سازی کا عظیم فن سیکھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام لوہے سے زرہیں بنانے میں مہارت رکھتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چرواہے کے طور پر عملی زندگی گزاری، جبکہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے تجارت فرمائی اور بکریاں چرائیں۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ ہنر، محنت اور پیشہ ورانہ مہارت انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت اور معاشرتی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک عرصے تک یہ تصور غالب رہا کہ کامیابی صرف ڈگریوں کے حصول سے وابستہ ہے۔ والدین کی خواہش رہی کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری افسر بنیں، لیکن بدلتی ہوئی دنیا نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف ڈگریاں اب روزگار کی ضمانت نہیں رہیں۔ بلاشبہ بی ایس، ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ڈگریاں قابلِ احترام اور قابلِ فخر ہیں، مگر اگر ان کے ساتھ عملی مہارت، فنی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت نہ ہو تو ان کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج دنیا میں بے شمار ایسے نوجوان موجود ہیں جو اعلیٰ تعلیمی اسناد رکھنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں، جبکہ دوسری جانب ہنرمند افراد نہ صرف بہتر روزگار حاصل کر رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید دنیا میں ڈگری کے ساتھ مہارت ناگزیر ہو چکی ہے۔
آج کے دور میں ہیلتھ سائنسز کا شعبہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا بھر میں نرسنگ، فزیوتھراپی، میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی، ریڈیالوجی، آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی اور دیگر طبی علوم کے ماہرین کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان اگر ان شعبوں میں تعلیم اور مہارت حاصل کریں تو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی روشن مستقبل ان کا منتظر ہو سکتا ہے۔
اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت مستقبل کے معمار شعبے بن چکے ہیں۔ ویب ڈیویلپمنٹ، پروگرامنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مختصر کورسز نوجوانوں کے لیے معاشی استحکام کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔ آج دنیا فری لانسنگ اور ریموٹ ورک کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں جغرافیائی سرحدیں اپنی اہمیت کھو رہی ہیں اور مہارت ہی اصل سرمایہ بن چکی ہے۔
زبانیں بھی عصرِ حاضر کی اہم ترین مہارتوں میں شمار ہوتی ہیں۔ انگریزی اب محض ایک زبان نہیں بلکہ عالمی رابطے کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ جاپانی، چینی، کورین، جرمن اور اطالوی زبانیں عالمی منڈی میں بے شمار مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ اگر ہمارے نوجوان دو یا تین بین الاقوامی زبانوں پر عبور حاصل کر لیں تو ان کے لیے دنیا کے کئی ممالک کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا، چین اور یورپ کے متعدد ممالک میں ہنرمند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی طلب ہمارے نوجوانوں کے لیے سنہری مواقع پیدا کر رہی ہے۔
یہ حقیقت بھی مسلمہ ہے کہ ہر بچہ فطری طور پر ذہین اور صلاحیتوں سے مالا مال ہوتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام ابھی تک بڑی حد تک حافظے پر انحصار کرتا ہے، جبکہ دنیا تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور عملی مہارتوں کو ترجیح دے رہی ہے۔
علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی تھی۔ شاہین بلند پرواز، خوددار اور اپنے بل بوتے پر جینے والا پرندہ ہے۔ اقبالؒ کا خواب بھی ایسا ہی نوجوان تھا جو علم سے آراستہ، کردار سے مضبوط اور ہنر سے مزین ہو۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی تعلیم، نظم و ضبط اور محنت کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا تھا۔ اگر ہم واقعی اقبالؒ اور قائدؒ کے خوابوں کی تعبیر چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جدید علوم اور ہنرمندی سے آراستہ کرنا ہوگا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی دلچسپی اور رجحان کو سمجھیں۔ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا، لیکن ہر بچہ کسی نہ کسی شعبے میں مہارت حاصل کرکے کامیاب ضرور ہو سکتا ہے۔ معاشرے میں ہنرمند افراد کی عزت و توقیر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایک ماہر ٹیکنیشن، نرس، پروگرامر یا فنی ماہر کو اتنی ہی عزت دی جاتی ہے جتنی کسی روایتی پیشے سے وابستہ فرد کو۔
نوجوان نسل کے لیے پیغام واضح ہے: میٹرک یا ایف ایس سی کے بعد اپنی ترجیحات میں ہنرمندی کو ضرور شامل کریں۔ ڈگری ضرور حاصل کریں، لیکن اس کے ساتھ کسی عملی مہارت، زبان یا ٹیکنیکل کورس کو بھی اپنی تعلیمی زندگی کا حصہ بنائیں۔ زمانہ اب صرف اسناد نہیں بلکہ صلاحیت، تخلیقی سوچ اور کارکردگی مانگتا ہے۔
کلامِ مختصر یہ کہ قوموں کی ترقی کا راز ان کے قدرتی وسائل میں نہیں بلکہ انسانی وسائل کے درست استعمال میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ وہ قومیں کبھی زوال کا شکار نہیں ہوتیں جو اپنی نوجوان نسل کو علم، ہنر، اخلاق اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی تعلیمی ترجیحات کو وقت کے تقاضوں کے مطابق نہ بدلا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے بچوں کو صرف ڈگری یافتہ نہیں بلکہ ہنرمند، باکردار، خود کفیل اور عالمی معیار کا شہری بنانے کی کوشش کریں گے۔ یاد رکھیے! علم انسان کو شعور عطا کرتا ہے، مگر ہنر اسے وقار بخشتا ہے۔ علم راستہ دکھاتا ہے اور ہنر اس راستے پر باوقار انداز میں چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والا زمانہ انہی افراد اور قوموں کا ہو گا جو سیکھنے، بدلنے اور نئی مہارتیں اختیار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں گے۔
قومیں صرف وسائل سے عظیم نہیں بنتیں بلکہ وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے عظمت حاصل کرتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کے ہاتھوں میں کتاب کے ساتھ ہنر، زبانوں کے ساتھ عالمی شعور، اور تعلیم کے ساتھ عملی مہارت بھی تھما دی تو پاکستان کا مستقبل نہ صرف محفوظ بلکہ تابناک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نوجوانوں کو خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں تعبیر دینے کا ہنر بھی سکھاتی ہیں۔ بلاشبہ، علم سے شعور پیدا ہوتا ہے اور ہنر سے وقار؛ اور یہی وہ راستہ ہے جو افراد کو خود کفالت، معاشروں کو استحکام اور قوموں کو عروج عطا کرتا ہے۔
