اردو زبان کا یہ محاورہ "کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے” اکثر ایسے اناڑی اور جلد باز کرداروں پر صادق آتا ہے جو جوشِ خطابت میں نقصان تو لاکھوں کا کر بیٹھتے ہیں، مگر حاصلِ کلام کے نام پر ان کے ہاتھ میں صرف پچھتاوا اور جگ ہنسائی ہی آتی ہے۔ تاریخِ عالم کا یہی وہ لطیفہ ہے جو اس وقت سپر پاور امریکہ اور اس کے لاڈلے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے صحراؤں میں پیش آ رہا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو ہمیں ایک پرانا چٹکلا یاد آتا ہے جب ایک دیہاتی چوہدری نے کسی معمولی بات پر غصے میں آ کر گاؤں کے ایک دکاندار کو دھمکی دی کہ "میں تمہاری دکان بند کروا کے دم لوں گا”۔ چوہدری نے اس چکر میں اپنے چار پہلوانوں کو روزانہ دیسی گھی کھلایا، تھانے کچہری کے چکر کاٹے، لاکھوں روپے لٹائے اور چھ مہینے بعد جب تھک ہار کر بیٹھا تو دکاندار نے مسکراتے ہوئے پوچھا، "چوہدری صاحب! دکان تو بند نہ ہوئی، البتہ آپ کی بھینسیں ضرور بک گئیں”۔ آج واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے پالیسی سازوں کا حال بھی اس چوہدری سے مختلف نہیں، جنہوں نے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے عرب دنیا سے لے کر بحیرہ احمر تک بارود کا جو کھیل کھیلا، اس کا انجام اب دنیا کے سامنے ہے۔
اس امریکی حماقت پر نویں صدی کے بغداد کا ایک تاریخی واقعہ بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ بغداد میں ایک اناڑی چور رات کے اندھیرے میں ایک تاجر کے گھر دیوار پھاند کر گھسا۔ گھر میں کچھ خاص نہ ملا تو غصے میں اس نے وہاں پڑا ہوا گھی کا ایک قیمتی مٹکا اٹھا لیا۔ جلدی میں مٹکا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر صحن میں گرا اور ٹوٹ گیا۔ گھی پورے صحن میں پھیل گیا اور چور کا پاؤں پھسلا تو وہ اسی گھی میں اوندھے منہ گر پڑا۔ اب وہ جوں جوں اٹھنے کی کوشش کرتا، گھی کی چکناہٹ کی وجہ سے دوبارہ گر جاتا۔ شور سن کر گھر والے جاگ اٹھے اور انہوں نے دیکھا کہ چور سر سے پاؤں تک گھی میں لت پت، صحن میں رقص کر رہا ہے اور اس کا اپنا ہی قیمتی کپڑا پھٹ چکا ہے۔ جب اسے قاضی کے سامنے پیش کیا گیا تو قاضی نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ "تم نے وہاں سے چرایا کیا؟” چور نے رو کر جواب دیا، "عالی جاہ! چرایا تو کچھ نہیں، الٹا اپنا نیا لباس پھڑوا بیٹھا اور تین دن تک پورے بغداد کے کتے میرے پیچھے لگے رہے کیونکہ مجھ سے دیسی گھی کی خوشبو آ رہی تھی”۔ واشنگٹن کے جنگی ماہرین نے بھی ایران پر اقتصادی پابندیوں اور عسکری گھیراؤ کا جو مٹکا توڑا تھا، آج وہ اس کی چکناہٹ میں خود اوندھے منہ گرے ہوئے ہیں، اور دنیا بھر میں ان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
بات شروع ہوئی تھی ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے، اس کی معیشت کو پابندیوں کے ہتھوڑے سے توڑنے اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو نیست و نابود کرنے کے بڑے بڑے دعووں سے۔ تجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کے ماہرین برسوں سے یہ پخ لگاتے رہے کہ امریکہ کی معاشی پابندیاں ایران کا وہ حشر کریں گی کہ تہران کے حکمران سفید جھنڈا لہراتے ہوئے واشنگٹن کی دہلیز پر آ بیٹھیں گے۔ لیکن ہوا کیا؟ امریکہ نے اپنے جدید ترین ہتھیار، بحری بیڑے، اربوں ڈالرز کا سرمایہ اور رہی سہی اخلاقی ساکھ اس جنگ کی بھٹی میں جھونک دی، مگر ایران نہ صرف اپنی جگہ پر قائم رہا بلکہ اس کی تکنیکی اور تزویراتی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی۔ آج امریکہ گھوم پھر کر اسی چوراہے پر واپس آ کھڑا ہوا ہے جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا، اور اب صورتحال یہ ہے کہ جو باتیں برسوں پہلے ایک پرامن معاہدے کے تحت طے ہو چکی تھیں، اب اسی پرانے ایجنڈے پر دوبارہ منت سماجت کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا جا رہا ہے۔
یہاں تاریخِ عسکری کا ایک اور ایسا اچھوتا اور مضحکہ خیز واقعہ یاد آتا ہے جسے پڑھے بغیر کوئی ہنسے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ سن 1788ء میں آسٹریا کی ایک لاکھ پرمشتمل فوج سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف جنگ کے لیے نکلی۔ راستے میں ایک مقام پر فوج کے ہر اول دستے نے مقامی لوگوں سے شراب کے چند بیرل خریدے اور پینا شروع کر دیے۔ جب پیچھے سے آنے والے پیادہ دستوں نے شراب میں حصہ مانگا تو ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور کسی منچلے نے اندھیرے میں مذاق کرتے ہوئے نعرہ لگا دیا، "ترک آ گئے! ترک آ گئے!”۔ شراب کے نشے میں دھت اس فوج میں ایسا ہراس پھیلا کہ انہوں نے اندھیرے میں ایک دوسرے کو ہی دشمن سمجھ لیا۔ آسٹریا کی فوج نے اپنی ہی فوج پر توپ خانے سے گولہ باری شروع کر دی، ہاتھی اور گھوڑے ایک دوسرے پر چڑھا دیے، اور اگلی صبح جب اصل عثمانی فوج وہاں پہنچی تو دیکھا کہ جنگ لڑے بغیر ہی آسٹریا کے دس ہزار فوجی میدان میں مردہ پڑے تھے اور باقی بھاگ چکے تھے۔ آج امریکہ اور اسرائیل کا اتحاد بھی اسی "آسٹرین فوج” کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں بحیرہ احمر اور خلیج کے پانیوں میں وہ اپنے ہی اربوں ڈالرز کے دفاعی نظام اور اینٹی میزائل سسٹم کو ہپنوٹائز ہوتے دیکھ رہے ہیں اور خفت مٹانے کے لیے اپنے ہی اتحادیوں کے مفادات کو آگ لگا رہے ہیں۔
اگرچہ بین الاقوامی معاہدوں کی اصل دستاویزات کبھی سرِعام چوک چوراہے پر نہیں کھولی جاتیں، لیکن سفارتی راہداریوں اور باخبر حلقوں سے جو حقیقت چھن چھن کر باہر آ رہی ہے، وہ انتہائی دلچسپ اور چونکا دینے والی ہے۔ پچھلے ادوار میں جب ایٹمی معاہدہ ہوا تھا، تو ایران ایک خاص حد تک اپنے یورینیم کی افزودگی روکنے اور جوہری بم نہ بنانے کے اصول پر راضی تھا، جس کے بدلے اس کے کچھ منجمد اثاثے بحال ہونا تھے۔ مگر پھر واشنگٹن میں ایک "سیاسی مہم جو” نے آ کر اس بنے بنائے کھیل کو بگاڑ دیا اور گلاس توڑ ڈالا۔ اب جبکہ پانی سر سے گزر چکا ہے، تو اندرونی خانے جو سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں، ان کے مطابق تہران اب پرانی شرائط پر واپس آنے کو تیار نہیں۔ اب ایران صرف اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی ہی نہیں مانگ رہا، بلکہ وہ ان تمام پابندیوں کا مستقل خاتمہ، اپنے تیل کی بلا روک ٹوک فروخت کی ضمانت اور ماضی میں ہونے والے معاشی نقصان کا ازالہ بھی مانگ رہا ہے۔ یعنی پہلے جو چیز چائے کی ایک پیالی پر طے ہو سکتی تھی، اب اس کے لیے امریکہ کو پورا شاہی ضیافت کا بل ادا کرنا پڑ رہا ہے۔
سب سے مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ اس وقت جتنا اشتعال اور جلدی واشنگٹن کو ہے، اتنی تہران کو نہیں ہے۔ امریکی انتظامیہ کو اس بات کی شدید عجلت ہے کہ کسی نہ کسی طرح اندر کھاتے ایران کے ساتھ سودا بازی مکمل ہو جائے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کی اس دلدل سے جان چھڑائی جا سکے۔ امریکہ اپنے ہتھیاروں اور بجٹ کا ایک بڑا حصہ اسرائیل کے تحفظ کی خاطر اس خطے میں ضائع کر چکا ہے، جبکہ دوسری طرف عالمی سطح پر اس کی ساکھ کا گراف اب کسی آسمان کو نہیں چھو رہا، بلکہ پاتال کی گہرائیوں میں گر چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی بادشاہ اپنی طاقت کے زعم میں کسی چھوٹے مگر ضدی حریف کو نیچا دکھانے نکلتا ہے اور ناکام ہوتا ہے، تو وہ اپنی عزت بچانے کے لیے چور دروازے تلاش کرتا ہے۔ امریکہ اس وقت اسی چور دروازے کی تلاش میں ہے تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جا سکے کہ "دیکھیں، ہم نے ایران کو ایٹم بم بنانے سے روک دیا”، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے بغیر بم بنائے ہی امریکہ کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔
پردے کے پیچھے کی اس بساط پر اگر نظر دوڑائی جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ امریکہ کو اب تہران کی وہ تمام شرائط تسلیم کرنی پڑ رہی ہیں جنہیں وہ ماضی میں یکسر مسترد کر دیا کرتا تھا۔ منجمد اثاثوں کی بتدریج رہائی اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے نرم رویہ اپنانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سپر پاور کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ کالم کا حاصلِ کلام اور فکر و تدبر کا پہلو یہی ہے کہ تاریخ ان لوگوں کا ہمیشہ ملاحظہ اور مذاق اڑاتی ہے جو طاقت کے نشے میں زمینی حقائق کو فراموش کر دیتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو جھکانے کے لیے جو محاذ کھولا تھا، اس میں انہوں نے حاصل تو کچھ نہ ہوا، الٹا دنیا بھر میں اپنی بدنامی کا ٹوکرہ سر پر ضرور اٹھانا پڑا۔ اس سارے تاریک منظرنامے میں اگر عقل و بصیرت اور انصاف کی کوئی "نویدِ سعید” ابھر سکتی ہے، تو وہ یہی ہے کہ یہ وقت طویل بحثوں کا نہیں بلکہ اس سچائی کو تسلیم کرنے کا ہے کہ جنگیں صرف جدید اسلحے سے نہیں بلکہ فکری استقامت اور صبرِ تدبر سے جیتی جاتی ہیں۔ امریکہ نے کھایا پیا تو کچھ نہیں، مگر بارہ آنے کا گلاس توڑ کر اب وہ دنیا کے سامنے ایک ایسی ہزیمت کا سامنا کر رہا ہے جس کا داغ دھونے میں اسے صدیاں لگ جائیں گی، اور تاریخ کی کتابوں میں یہ باب ہمیشہ ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ پڑھا جائے گا۔
