امریکہ،ایران،اسرائیل چپقلش میں جیت کس کی ہوئی۔ہاں جذباتیت میں لتھڑےجو جی میں آئے،مرضی ہے،کہتے رہیں۔سوال اپنی جگہ کھڑا ہے کہ اس سارے کھیل،جنگ وجدل،پٹ سیاپے سے حاصل کیا ہوا۔
سیانے تو یہی کہتے ہیں لڑائی جھگڑے انتشار میں جیت کسی کی نہیں ہوتی،ہاں وہ سرمایہ دار، جنگ و جدل،جذبات اور ڈر کا کاروبار کرنے والے،ان کا فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے اگر کوئی ہارتا ہےتو بے بس،مجبور محکوم لوگ اور آنے والے وقتوں میں جنگ کے بعد لتھڑے پتھڑے اپاہج سانس کی ڈوری کو کھینچتے کھینچتے معذوربچے،بوڑھے،عورتیں۔بس ان کے لیے”عظیم قربانیوں”کے پھوکے نعرے ایک ایک تمغہ ان کے گلے میں ڈال کر جذباتیت کے سہارے جینے کی امنگ دی جائے گی۔حالانکہ اس سے بہتر زندگی بھی ہو سکتی ہے ان کی۔دیکھنے والی بات ہے کہ ایران کی ساری ٹاپ لیڈر شپ اوجھل ہو گئی اور ان کی جگہ نئے لوگ آگئے۔اور اب امریکہ ایران ڈیل تو پھرسوال ابھرتا ہے کہ یہی بات چیت کا راستہ،اگر پہلے اختیار کر لیا جاتا جب اسرائیل عربوں کے ساتھ معاہدہ ابراہم کرنے کے قریب تھا تو یہ بھی شامل ہو کر یا خاموش رہ کر برداشت کرتے اوراپنی اور پوری خطے کی سلامتی کے لیے کردار ادا کرتے لیکن ایسا ہو نہ سکا ہو سکتا ہے اس وقت کی مقتدر قوتوں کے پیش نظر کچھ اور ہو لیکن بات تو پھر مکالمے کی صورت میں ہی آگے بڑھی ہے اور مزید بڑھے گی۔
ایران نے اپنی تمام پراکسیز شام، یمن،عراق،لبنان،فلسطین غزہ وغیرہ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ہونے والے معاہدے میں خصوصا غزہ کے حوالے سے خصوصا فلسطین لبنان کو بات چیت میں شامل رکھتے ہیں یا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹتا ہے۔اب ایران کی”جیت”تبھی مناسب ہے کہ وہ اپنے منجمد اثاثے اور حواس بحال کروا لے،آبنائے ہرمزسے”چنگی وصولی”کی شک شامل کروا لے۔نجانے کیوں لوگ لڑائی میں جیت،ہار کا تمغہ حاصل کرنے کے لیے جھاگ اڑاتے پھر رہے ہیں۔جو دوست فرما رہے ہیں ایران جیت گیا ہے تو کیا اس نے خطے میں امریکی اڈوں کو ختم کر دیا ہے،انہیں نکال دیا ہے عرب اور اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے،ایران کی جیت تو یہی تھی کہ وہ اسرائیل کو فلسطین غزہ اور عرب کے دوسرے علاقوں سے نکال کر اس کی اپنی حدود تک محدود کرنے میں کامیاب ہو جاتا اگر اسرائیل نے غزہ اور فلسطین کو خاک اور خون میں نہلا دیا ہے،لبنان،شام یمن،عراق فلسطین تک پھیلی ایرانی پراکسیز دم سادھےکھڑی ہیں اور وہاں ان کے مخالف قوتیں موجود ہیں تو پھر یہ سوچنے والی بات ہے جہاں پورے عرب خطے کی عوام ڈر،خوف،دہشت،جنگ و جدل کاشکار ہوئی۔اس سے حاصل کیا ہوا،ہاں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جہاں ایران کے اندر مخالف قوتیں دب گئی ہیں انہیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے تو کیا آنے والے وقت میں ایران کی عوام اپنےحکمرانوں سے یہ سوال نہیں کریں گی کہ ہونے والے پریڈ میں ایرانی عوام کے ہاتھ کیا آیا اس ساری جنگ و جدل قتل و غارت کے بعد وہ کہاں کھڑے ہیں،مناسب نہیں تھا کہ سارے ہوش مندی کے ساتھ عرب و عجم،کھلی آنکھوں،دل دماغ کے ساتھ ابراہم اکارڈ میں شامل ہو کر کوئی بہتر راستہ تلاش کرتے۔
ویسے دیکھا جائے تو امریکہ یا عالمی سرمایہ داری استعماری قوتیں ان کا مقصد دنیا کو سٹیبل کرنا پرامن معاشرے بنانا نہیں بلکہ تخریبی عوامل ہی میں ان کی بقا اور بنیاد پرستی کو ہوا دینا،انہیں کسی نہ کسی انداز میں مضبوط کرتے جانا ہی ان کے مفاد میں نظر آتا ہے۔پچھلے دنوں جب وہ افغانستان سے نکلتے ہیں تو دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کون سی قوتیں مضبوط ہوئیں اب اس جنگ کے تناظر میں کچھ اور حاصل ہوا ہو یا نہیں لیکن جو ایرانی بنیاد پرست قوتوں کے خلاف آوازیں اٹھ رہی تھیں فی الحال ان کا قلع قمع ہو گیااور بنیاد پرست قوتیں پچیس تیس سال کے لیے مضبوط ہو گئیں۔
اس ساری صورت حال میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اصل مسئلہ ایران یا فلسطین نہیں عالمی استعماری نظام کے لیے جو چیلنج ہے اصل مین ٹارگٹ روس اور چین ہے۔روس کو انہوں نے یوکرائن جنگ میں الجھارکھا ہے جب کہ چین کی ناکہ بندی کے لیے وہ اس قسم کی جنگوں اور تخریبی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں اور آنے والے وقت میں جو وسطی ایشیائی گزرگاہیں ہیں یہ اہم ہوں گی۔چین کے حوالے سے بھی کہ جو 90 کی دہائی میں سویت یونین کے انہدام کے بعد جو علاقے بظاہر آزاد ہوئے ان میں علاقائی اور عالمی قوتیں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر اپنے اپنے مفادات کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں کیونکہ اس خطے میں عالمی سرمایہ دار قوتیں امریکہ برطانیہ مغربی قوتیں اپنے اختیار اور قبضے کی کوشش میں ہیں اور ادھر روس چین اور ترکیہ کے اپنے مفادات ہیں ان علاقوں میں۔یقینا حالیہ دنوں آنے والے وقت میں عالمی سرمایہ دار کے لیے درد سر ہے وہ چین ہے اور وہی دنیا کو کوئی نیا راستہ دینے کے موڈ میں نظر آتا ہے،
اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کیا عالمی اور علاقائی قوتوں کے پیچھے صرف فلمی گیتوں کی طرح” آہو نی آہو "کی حد تک دیہاڑی لگاتا رہے گا اوراشرافیہ کی بجائے عوام کے دن بھی پھریں گے، مزدور کسان بے بس عوام کا بھی کچھ بھلا ہوگا۔ایسا لگتا تو نہیں کیونکہ پاکستانی اشرافیہ اور عالمی قرضہ فراہم کرنے والی کمپنیاں اور ادارےعوام کی بجائے اشرافیہ کے سہولت کاری کے لئے موجود رہیں گے،کیا کبھی قرض فراہم کرنے والے اداروں نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مہنگائی اور قیمتوں کو نہ بڑھانے کا مشورہ دیا،کیا کبھی اشرافیہ کو اپنی عیاشیاں،پروٹوکول،اللے تللوں سے روکنے کی کبھی بات کی،بالکل بھی نہیں اور جہاں تک عوام میں سیاسی سماجی شعور کی بات تو وہ حکمرانوں نے جبر دھونس دھاندلی سے کسی”جوگے”نہیں چھوڑا کہ ان کے خلاف احتجاج در احتجاج کر سکیں اور ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کرسکیں تاکہ حقیقی جمہوری معاشرے کی تشکیل میں معاون ہو
