خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دونوں دھماکے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیے گئے۔
ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے بتایا کہ پہلا دھماکہ ایک مسافر ڈاٹسن گاڑی کے قریب ہوا۔ دھماکے کے بعد جب امدادی کارروائیاں جاری تھیں تو اسی دوران دوسرا دھماکہ بھی ہوگیا، جس سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
دھماکوں میں جاں بحق افراد کی لاشیں آر ایچ سی ڈومیل منتقل کردی گئیں جبکہ زخمیوں کو خلیفہ گل نواز اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ڈاٹسن میں ہاتھی خیل قوم کے افراد سوار تھے جو بنوں شہر جا رہے تھے۔
واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے شہداء کے لیے دعائے مغفرت، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردی پاکستان کے امن اور استحکام کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے، تاہم ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کی شہادت ایک افسوسناک سانحہ ہے اور صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
