اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو نیو ورلڈ آدر قائم ہوا اس کی قیادت کا سہرا امریکہ کے سر سجا۔ سابق سویٹ یونین جو آجکل روس کی شکل میں موجود ہے کو اسکو مشرقی یورپ کا کنٹرول ملا اور باقی مغربی یورپ سمیت دنیا کے پیشتر نو آزاد ریاستوں کا کنٹرول بھی امریکہ ہی کو ملا کچھ نے نظریاتی بنیادوں پر خود کو سوشلسٹ سویٹ بلاک میں رکھنے کو ترجیح دی۔ مطلب دنیا واضح طور پر دو بلاکس میں تقسیم ہو گئی۔ مغربی بلاک نے نیٹو کے نام سے ایک دفاعی معاہدہ کیا جس کے تحت نیٹو ممالک نے اپنی اپنی فوج ُاور دفاعی بجٹ کا ایک حصہ نیٹو دفاعی معاہدے کے تحت مختص کیا۔
اسی نیو ورلڈ آڈر کے تحت چند اہم ادارے بھی قائم کئے گے یعنی لیگ آف نیشن کی جگہ اقوام متحدہ کا ادارہ قائم کیا گیا جس کے دو حصے بنائے گے ایک جنرل اسمبلی جس کے تمام ملک رکن بنے ۔ اقوام متحدہ کی کے زیر اثر اس کا ایک ایوان بالا بھی قائم ہوا جیسے سیکیورٹی کونسل کا نام دیا گیا سکیورٹی کونسل پندرہ ممبر ممالک پر مشتمل ہے اور اسکے پانچ مستقل ممبرز ہیں جن کے پاس ویٹو پاور ہے بقیہ دس ممبر جنرل اسمبلی سے دو سال کی مدت کے لئے منتخب کیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ساتھ اس باڈی کے کئی ذیلی ادارے بھی قائم ہوئے جن میں انسانی حقوق کا ادارہ سب سے اہم ہے اسکے علاوہ تعلیم صحت عامہ ماحول امن شوسل جسٹس وغیرہ چند اہم ادارے ہیں مگر اقوام متحدہ کا بنیادی کام ممالک کی خودمختاری اور جغرافیائی سرحدوں کے احترام کے تحفظ تھا تاکہ تمام ممبر ممالک اپنے باہمی اختلافات کو مذاکرات اور اقوامتحدہ کے ادارے میں باہمی طور پر حل کریں اور کوئی ایک ملک اپنی طاقت کے بل بوتے پر کسی دوسرے ملک پر جارحیت نہ کرئے

اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ ہی کئی ایک اقتصادی اداروں یعنی ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف بھی قائم ہوئے اور ایک انٹرنیشنل کوٹ آف جسٹس بھی قائم ہوئی
وقت کے ساتھ ساتھ خاص طور سرد جنگ کے خاتمے پر جب سویٹ یونین ٹوٹا اور نئی آزاد سویٹ ریاستوں کا قیام ہوا تو روس قدر کمزور ہوگیا اور دنیا حقیقی طور پر یونی پاور ورلڈ بن گئی جس کی قیادت امریکہ کرتا ہے اور آج تک امریکہ واحد سوپر پاور کے روپ میں دنیا پر حکمرانی کرتا آیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے سے لیکر آجتک دنیا میں کئی ایک جنگیں ہوئیں کئی ممالک اپنی مملکت کے حوالے سے کمزور اور منتشر ہوئے بنیادی انسانی حقوق پامال ہوئے اور جو سوچا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی موجودگی میں ممالک کے باہمی اختلافات کو ایک چھت تلے حل کر لیا جائیگا ممکن نہ رہ سکا امریکہ نے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی مثل اپنی من مانیاں کیں اور اسے کوئی نہ روک سکا۔ خاص طور پر ستمبر ۲۰۰۱ کے واقع نے ایک نئی جارحانہ اصطلاح کو جنم دیا پری ایمپٹیو ایکشن کہلاتی ہے اور اقوام متحدہ نے امریکہ کے اس حق کو تسلیم بھی کرلیا اور یوں امریکہ نے پہلے افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کر دیا اس کے حالات و نتائج کیا نکلے یہ اپنی جگہ ایک الگ عنوان ہے بہرحال اس رسم نے دیگر ممالک یعنی بھارت اور اسرائیل کو بھی شہہ دی اور ہر دو ممالک نے اس حق کے تحت اسرائیل نے فلسطین اور بھارت نے پاکستان کے بالاکوٹ کے علاقے میں کاروائیاں کیں مگر اقوام متحدہ جو آجتک بالکل غیر موثر ادارہ بن چکی تھی کچھ نہ کر سکی۔

آج دنیا اس نہج پر آ پہنچی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جو بھی بین الاقوامی ادارے بشمول اقوام متحدہ ورلڈ بنک آئی ایم ایف سب اپنی ساکھ کھوتے دیکھائی دیتے ہیں
اس عرصے میں دنیا میں کئی ایک قابل ذکر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں روس اگرچہ اپنی سوپر پاور ریس میں چوک چکا تھا مگر اس نے اپنے آپ کو کبھی اس دوڑ سے باہر تصور نہیں کیا وہ بھی اپنی واپسی کی جگہ تلاش کرنے میں سرگرم ہے چین جو اپنی پوری اقتصادی اور فوجی طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے ہے اپنا وجود بحیثیت سوپر پاور منوانے کا خواہش مند بھی ہے۔

دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے امریکہ اب اکیلا ہی اقتصادی اور فوجی طاقت کا سرچشمہ نہیں رہا روس اور چین بھی اپنے وجود کا بھرپور اظہار چاہتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے اسرائیل نے جس طرح غزا میں فلسطینیوں پر غیر انسانی مظالم کی داستانیں لکھی ہیں انسانیت بھی شرما گئی ہے اور اس سے بڑھکر مسلم ممالک کی سرد مہری نے اسرائیلی اقدامات کی گویا خاموش حمایت ہی کردی جس سے اسرائیل کے حوصلے مزید بڑھے اور اس نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کو اپنے جال میں پھنسا کر ایران حملہ کرا دیا جس سے امریکہ اور اسرائیل مطلوبہ مقاصد تو دور کی بات اپنا ہی نقصان کرا بیٹھے ہیں ایران کا جواب ناصرف حیران کن ہے بلکہ انتہائی موثر ہے۔ اب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرکے دنیا کو توانائی کے بحران میں مبتلا کردیا ہے ۔ دنیا میں توانائی کا بحران پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ بہت سے ممالک کے لیے اقتصادی بحران اور افراط زر کا باعث بن گیا ہے۔
ایران نے دنیا پر واضع کر دیا ہے کہ جب بھی اس کی سرزمین پر جہاں اور جیسا حملہ کیا جائیگا ایران واپس ویسا ہی حملہ امریکی آدوں اور تنصیبات پر اور اسرائیل پر بھی کرئے گا اور ایران نے ایسا ہی کیا بھی ۔ اب امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی ہوچکی ہے مگر ایران نے اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کر رکھا ہے بلکہ اسکی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اس بندش کی وجہ سے دنیا میں توانائی کو ایک بحران پیدا ہوگیا ہے اور امریکہ سمیت تمام ممالک اس بحران سے متاثر ہو رہے ہیں اور تیل کی پیداوار اور ترسیل میں جاری رکاوٹوں کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں اور اگر یہ بحران اور آبنائے ہرمز اگر مزید بند رہی تو دنیا میں توانائی کی شدید کمی واقع ہو جائیگی اور بہت سارے ترقی پذیر ممالک شدید اقتصادی اور معاشی بحرانوں میں مبتلا ہو جائیں گے اور صورت حال ہر لحاظ سے ھاتھوں سے نکل جائیگی۔

پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات کی راہ کھولنے کی پوری پوری کوشش کی اور پاکستان کو اس میں ایک بڑی کامیابی اس وقت ہوئی جب ایران اور امریکہ کی لیڈرشپ کو اسلام آباد مذاکرات کی میز تک لانے میں کامیاب ہوگیا مگر باوجوہ کوئی باقاعدہ معاہدہ طے نہ پاسکا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات ختم کرکے اپنے وفد کو واپس بلا لیا۔ اب بھی بے ڈور ڈپلومیسی تو ہو رہی ہے اور پاکستان کا اس میں بہت بڑا کلیدی کردار ہے اور دنیا میں پاکستان کا وقار بہت بلند ہوا ہے۔ایک بات طے ہے کہ پاکستان کی بھرپور کوشششوں کی وجہ سے تاحال جنگ بندی قائم ہے اب یہ اونٹ کس کروٹ بھیٹے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ جنگ کے بادل ابھی چھوٹے نہیں ہیں اور جارحیت کا خطرہ ابھی بھی قائم ہے کیونکہ امریکہ اور ایران اپنے اپنے موقف پی ڈٹے ہوئے ہیں اور فی الحال کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

ایسے میں یہ سوچ لینا کہ چلو جنگ بندی مستقل رہے گی تو ایسا ممکن نظر نہیں آرہا۔ ہاں مگر دنیا میں طاقت کے توازن کی نئی لہریں ضرور اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ ایران کو چین اور روس کی خاموش حمایت حاصل ہے چین سر دست کسی بھی جارحیت میں براہ راست کودنے کو تیار نہیں اور روس یوکرائن کے معاملے کو ہر صورت جیتنا چاہتا ہے تاکہ اپنی طاقت کی مثال اور جواز پیدا کر سکے۔

چین اقتصادی اور فوجی اعتبار سے برتر ہے اور اس نے ٹیک نالوجی کی دنیا میں بھی اپنا لوہا منوا رکھا ہے
سپر پاور ریس میں چین اپنی موجودہ ساکھ کے اعتبار سے مضبوط ہے مگر امریکہ اپنی فوجی طاقت کے اظہار کے ساتھ دنیا میں اپنا مقام بنائے رکھنے کا عہد رکھتا ہے۔ روس آہستہ اور خاموشی سے اپنا سر تو نکال رہا ہے مگر اسے ظاہری طور پر کچھ بڑا کر دیکھانے کی ضرورت ہے۔ مگر ایک بات طے ہے کہ جلد یا دیر دنیا میں طاقت کا توازن نئی سمت کا تعین کریگا دنیا یونی پاور ورلڈ سے ملٹی پاور ولڈ کے سفر پر گامزن ہو چکی ہے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts