چپیڑ نامہ ۔۔۔!
وقت بھی عجب شے ہے۔ نہ کسی کے لیے ٹھہرتا ہے، نہ کسی کی ضد مانتا ہے، اور نہ ہی کسی طالب علم کے"کل سے پکا آغاز” والے وعدوں پر اعتبار کرتا ہے۔یہ اپنی بے نیازی سے گزرتا رہتا ہے اور پیچھے ہم جیسے لوگ رہ جاتے ہیں جو ماضی
سیلاب کی دستک: دعووں سے آگے بڑھ کر عمل کا وقت
پاکستان ایک بار پھر مونسون کے موسم کے دہانے پر کھڑا ہے۔ محکمہ موسمیات اور متعلقہ ادارے معمول سے زیادہ بارشوں، پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی
پیف پارٹنرز کی مؤدبانہ گزارش ۔۔۔!
"جناب چیئرمین پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن !سفیرانِ علم کی اس مؤدبانہ گزارش پر دیدۂ دل وا فرمائیے اور شراکت داروں کے اضطراب کو نویدِ سکون سے ہمکنار کیجیے۔” یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایک تعلیمی ادارہ صرف اینٹوں، سیمنٹ اور لوہے کا بے جان ڈھانچہ نہیں ہوتا بلکہ یہ
کاش وہ وقت لوٹ آئے…!
آج جب زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ملتی. تو بار بار دل ماضی کی ان حسین گلیوں میں بھٹکنے لگتا ہے. جہاں بچپن، لڑکپن اور جوانی کے ابتدائی دن ایک خوبصورت خواب کی طرح آباد تھے۔ وہ دن سادہ تھے مگر خوشیوں سے
حقِ مزاحمت،ریاستی ذمہ داری اور کشمیر
عصرِ حاضر کی سیاست میں سب سے اہم سوال صرف انتخابات،نشستوں یا اقتدار کی تقسیم کا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد،نمائندگی اور سیاسی جواز کا ہے۔آزاد کشمیر کی 12مہاجر نشستوں پر جاری چپقلش بھی دراصل اسی وسیع تر سیاسی اور آئینی سوال کا اظہار ہے۔ کشمیری حلقوں
"وارثانِ بساطِ سخن کے نام: ڈاکٹر سہیل کا چراغِ راہ”
ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ آنے والے زمانوں کے فکری شعور پر بھی اپنی گہری چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر آغا سہیل اردو ادب کے انہی ممتاز، سنجیدہ اور کثیرالجہت ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے افسانوی
لفظوں کے زہریلے تیر
قومیں صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں رہتی ، اُن کے نظریات ، ادارے اور محافظ بھی اُن کی بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔جب کوئی دشمن کسی ملک کو کمزور کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اُس کے دفاعی اداروں پر حملہ کرتا ہے۔کبھی بارود سے ، کبھی سازش
