ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ آنے والے زمانوں کے فکری شعور پر بھی اپنی گہری چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر آغا سہیل اردو ادب کے انہی ممتاز، سنجیدہ اور کثیرالجہت ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے افسانوی ادب، تحقیق اور تنقید کے میدان میں ایسی گراں قدر خدمات انجام دیں جو آج بھی علمی و ادبی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان کی شخصیت محض ایک تخلیق کار کی نہیں بلکہ ایک مکمل ادبی عہد کی نمائندہ تھی۔

ڈاکٹر آغا سہیل، جن کا اصل نام آغا محمد صادق تھا، 6 جون 1933ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان کے ایک علمی اور تہذیبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ کی علمی فضا، تہذیبی نکھار اور ادبی روایت نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے ان کے اندر فکری سنجیدگی، مشاہدے کی گہرائی اور ادبی ذوق کو پروان چڑھایا۔

برصغیر کی تقسیم نے جب تاریخ کا رخ بدلا تو لاکھوں خاندانوں کی طرح ان کی زندگی بھی ہجرت کے کرب سے دوچار ہوئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر آئے اور لاہور کو اپنی مستقل جائے سکونت بنایا۔ یہ ہجرت محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہ تھی بلکہ ایک تہذیبی تسلسل کا نیا باب تھی، جسے انہوں نے اپنی علمی و ادبی کاوشوں کے ذریعے مزید مضبوط کیا۔

لاہور میں قیام ان کی زندگی کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ یہاں انہوں نے اپنی علمی سرگرمیوں کو نئی جہت دی اور اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ لاہور کی ادبی فضا میں رہتے ہوئے انہوں نے تحقیق، تنقید اور تخلیق؛ تینوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔

ان کا سب سے اہم تحقیقی کارنامہ ان کا پی ایچ ڈی مقالہ "دبستانِ لکھنؤ کے داستانوی ادب کا ارتقا” ہے۔ یہ مقالہ اردو تحقیق و تنقید کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے داستانوی ادب کے فکری، فنی اور تاریخی پہلوؤں کو نئے زاویوں سے سمجھنے میں مدد دی۔ اسی تحقیق نے انہیں علمی حلقوں میں ایک معتبر محقق کے طور پر متعارف کرایا۔

ڈاکٹر آغا سہیل کا اصل میدان افسانوی ادب تھا۔ انہوں نے افسانے اور ناول کے ذریعے انسانی نفسیات، معاشرتی رویّوں اور تہذیبی تبدیلیوں کو نہایت باریک بینی سے پیش کیا۔ ان کی تحریروں میں مشاہدے کی گہرائی، فکر کی وسعت اور بیان کی سادگی کے ساتھ ساتھ ایک فنی وقار بھی موجود ہے جو قاری کو اپنی جانب متوجہ رکھتا ہے۔

ان کے ناول "غبارِ کوچۂ جاناں” اور "کہانی عہدِ زوال کی” اردو ناول نگاری میں اہم اضافہ ہیں۔ ان ناولوں میں تہذیبی زوال، سماجی انتشار اور انسانی احساسات کی پیچیدگیوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کے افسانوی مجموعے "بدلتا ہے رنگ آسماں”، "شہرِ ناپرساں”، "تل برابر آسمان”، "اگن کنڈلی” اور "بوند بوند پانی” اردو افسانوی ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہوں نے قارئین کو فکری اور جذباتی دونوں سطحوں پر متاثر کیا۔

ان کی خودنوشت "خاک کے پردے” ان کی زندگی، مشاہدات اور ادبی سفر کا نہایت اہم اور معتبر حوالہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے عہد کی سماجی اور ادبی فضا کو نہایت دیانت داری، سچائی اور فنی سادگی کے ساتھ بیان کیا ہے، جو اسے خودنوشت ادب میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔

ڈاکٹر آغا سہیل کی تنقیدی و تحقیقی تحریریں بھی ان کی فکری وسعت اور علمی بصیرت کی آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے اردو تنقید کو محض نظری مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک سنجیدہ، تجزیاتی اور فکری جہت عطا کی، جس نے بعد کے نقادوں کے لیے نئی راہیں متعین کیں۔ ان کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ادب کو محض فن نہیں بلکہ شعور کی ایک اعلیٰ صورت سمجھتے تھے۔

26 فروری 2009ء کو اردو ادب کا یہ درخشاں ستارہ لاہور میں غروب ہو گیا۔ ان کی تدفین لاہور کے ٹاؤن شپ قبرستان میں ہوئی، جہاں وہ آج بھی آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک ایسا خلا چھوڑ گئی جسے پُر کرنا آسان نہیں، تاہم ان کی علمی و ادبی خدمات آج بھی زندہ ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

آغا سہیل کی شخصیت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ سچا ادیب کبھی نہیں مرتا؛ وہ اپنے لفظوں، افکار اور تخلیقات کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ان کی تحریریں اردو افسانوی ادب میں ایک ایسا روشن باب ہیں جو وقت کے ساتھ مزید تابناک ہوتا جا رہا ہے۔ وہ اپنے عہد کے محض ایک ادیب نہیں بلکہ ایک فکری روایت کے امین تھے جنہوں نے اردو ادب کو نئی وسعتیں عطا کیں۔

ادبی دنیا میں آغا سہیل جیسے نام محض صفحات کی زینت نہیں ہوتے بلکہ وہ تہذیبی شعور کی علامت بن جاتے ہیں۔ ان کی تخلیقات ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ادب انسان کے اندر احساس، شعور اور جمالیات کو زندہ رکھتا ہے۔ آج جب ہم یادِ رفتگاں کے اس باب کو پلٹتے ہیں تو دل یہ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے لفظوں کو زندگی دی، وہ خود لفظوں میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

ادب سے وابستہ ہر شخص کے لیے آغا سہیل کا نام ایک رہنما چراغ کی حیثیت رکھتا ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی کی صورت دکھائی دیتا ہے۔ ان کی خدمات صرف ماضی کا حصہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے ادبی شعور کی بنیاد بھی ہیں۔

وارثانِ بساطِ سخن کے لیے ڈاکٹر آغا سہیل کا پیغام ان کی تحریروں میں آج بھی زندہ ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا روشن استعارہ ہے کہ ادب محض لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ فکر، شعور اور تہذیبی امانت کی حفاظت کا نام ہے۔ نئی نسل کے لکھاری اگر علم، تحقیق، دیانت اور فنی وقار کو اپنا شعار بنا لیں تو یہی ڈاکٹر سہیل کے چراغِ راہ سے حقیقی استفادہ ہوگا۔

کلام مختصر یہ کہ ایسے اہلِ قلم کی یادیں صرف کتابوں میں نہیں بلکہ دلوں میں محفوظ رہتی ہیں۔ ان کی جدائی کا دکھ اپنی جگہ، مگر ان کی فکری میراث ایک ایسا سرمایہ ہے جو کبھی زوال پذیر نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر آغا سہیل بظاہر ہم میں موجود نہیں، مگر ان کا روشن چراغ آج بھی بساطِ سخن کے وارثوں کو منزل کا راستہ دکھا رہا ہے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts