ایک لطیفہ نما واقعہ تاریخ کے اوراق میں اکثر بطور استعارہ دہرایا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ ایک مرتبہ اپنے دورے پر نکلی تو بھوک اور مہنگائی سے تنگ عوام نے”روٹی،روٹی”پکارنے لگے۔ لاڈو رانی نے اپنے نمک حرام مشیروں سے دریافت کیا کہ یہ لوگوں نے کاہے کو ” رولا ” ڈالا ہوا ہے؟ مشیروں نے جواب دیا کہ یہ روٹی مانگ رہے ہیں۔اس پر لاڈو رانی نے حیرت سے کہا کہ اگر روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک کیوں نہیں کھالیتے؟۔
یہ بات تاریخی طور پر درست ہو یا نہ ہو،لیکن یہ حکمران اشرافیہ اور عام عوام کے درمیان موجود ذہنی فاصلے کی ایک موثر علامت ضرور ہے۔
آج کے پاکستان میں بھی حکومتی نمائندوں اور مشیروں بہ تدبیروں(بہ کی بجائے” بد ” لکھا،پڑھا،سمجھا جائے)کے بیانات اسی طرزفکر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔جب ایک بڑے نجی ٹی وی چینل پر وزیر خزانہ کے مشیر یہ فرماتےہیں کہ”پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے تو صرف ایلیٹ کلاس متاثر ہوتی ہے کیونکہ گاڑیاں انہی کے پاس ہیں،جبکہ موٹر سائیکل سواروں کا گزارا ہو رہا ہے،کیا لیوی لیوی لیوی لگا رکھا ہے،،۔تو یہ بیان دراصل اس حقیقت سے لاعلمی یا لاتعلقی کا اظہار ہے کہ پٹرول کی قیمت صرف گاڑی چلانے والے کو متاثر نہیں کرتی بلکہ ذندگی کے ہر پہیے کو متاثر کرتی ہے۔ٹرانسپورٹ سے لے کر خوراک،زراعت،صنعت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء تک ہر چیز کی قیمت ایندھن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے،اس لیے پٹرول مہنگا ہونے کا بوجھ بالاخر غریب اور متوسط طبقے پر ہی منتقل ہوتا ہے۔

پچھلے دنوں آل پاکستان تاجران کے صدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کے بازاروں میں ساٹھ سے ستر فیصد تک خرید و فروخت میں کمی آ چکی ہے۔ان کے مطابق بارہ کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی قوت خرید تقریبا جواب دےچکی ہے اور تاجروں کو وہ مشکلات درپیش ہیں جو گزشتہ سات دہائیوں میں شاید کبھی دیکھنے کو نہیں ملیں۔ یہ بیان محض تاجروں کے کاروباری نقصان کا نوحہ نہیں بلکہ ایک بیمار،ڈوبتی معیشت کی تشخیص ہے۔جب عوام کے پاس خریدنے کے لیے پیسہ نہ ہو تو منڈیاں ویران،بازار سنسان اور صنعتیں سست اور لوکل اور عالمی انویسٹر اپنا سرمایہ نکال لے جا رہے ہوں تو ایک اندھا بھی بتا سکتا ہے کہ کیا ہونا والا ہے اور چل کیا رہا ہے۔

معاشی ترقی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معیشت کا پہیہ عوام کی قوتِ خرید سے چلتا ہے،لیکن جب آٹا،چینی،گھی،دالیں،پٹرول،بجلی گیس،پانی اشرافیہ کے قبضے میں اور عوام سے دور ہوں تو نہ صرف غربت،بےچینی،انتشار بڑھتا ہے بلکہ جلد ہی پورے گلے سڑےنظام کا بٹھا بیٹھ جاتا ہے۔آج پاکستان میں مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

اس صورتحال کا سب سے المناک پہلو عوام کی بے بسی اور ریاستی جبر کے سامنے ان کی خاموشی ہے۔
کسان،مزدور اور کم آمدنی والے طبقات مسلسل معاشی و نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو گئےہیں۔کوئی قرضوں اور مہنگائی سے تنگ آکر خودکشی کررہاہے،کوئی کہیں اپنے اہلِ خانہ سمیت نہر میں چھلانگ لگانے پر مجبور ہےاور کوئی موٹر سائیکل یا رکشہ پر بچا کھچا پٹرول چھڑک کر جلا کر اپنے غصے کا اظہار توکررہا ہےلیکن اجتماعی سطح پر منظم مزاحمت اور مؤثر احتجاج در احتجاج کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔پٹرول پمپوں اور یوٹیلٹی مراکز پر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر ذلت برداشت کرتے رہیں گے پر ظالموں،حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑک پر نہیں آئیں گے۔

دیکھا جائے توظالم آمرانہ رویے کی نسل در نسل جیت ہوچکی ہے عوام کی یہ صورتحال صرف معاشی محرومی کی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی شکست خوردگی کی بھی علامت ہے کیونکہ قابضین معاشرے میں یہ احساس راسخ کرنے میں کامیاب ہو چکے کہ احتجاج یا مزاحمت سے کچھ تبدیل نہیں ہوسکتا۔سو لوگ اب اجتماعی جدوجہد کے بجائے انفرادی اذیت،ذلت،غربت،مہنگائی کو اپنی تقدیر سمجھنے پر مجبورہیں۔یہی وجہ ہے کہ شدید مہنگائی،بیروزگاری اور استحصال کے باوجود عوامی ردعمل زیادہ تر نجی گفتگوؤں،طنزیہ جملوں اور سوشل میڈیا کے مذاق تک محدود رہ گیا ہے۔

دوسری جانب مزدور،کسان،سوشل ترقی پسند تنظیموں کی کمزوری بھی سامنے آچکی ہے۔جن طبقات کو عوام کے حقوق کی آواز بننا چاہیے تھا وہ غیر فعال چکے ہیں یا پھر اقتدار کے مراکز کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ جب منظم عوامی تحریکیں وجود میں آتی ہیں(بلکہ اب تو غیر منظم تحریکوں”جن زی وغیرہ”نے ہمارے دائیں بائیں میں بہت کچھ کردیا ہے۔سوچیے ہمارے زوال کی کیا خوب انتہا ہے)تو بڑے سے بڑا حکمران طبقہ بھی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور ہو جاتا ہے۔پاکستان میں عوامی غصہ اکثر منتشر اور غیر منظم رہتا ہے،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکمران عیاشوں کا ٹولہ خود کو عوامی دباؤ سے محفوظ محسوس کرتا ہے۔حقیقی جمہوری معاشروں میں حقوق جدوجہد سے حاصل ہوتے ہیں،جبکہ اندھی خاموشی استحصالی فرعونوں کو مزید مضبوط کر دیتی ہے۔

دیکھا جائے توطبقاتی تفاوت اپنی خطرناک ترین شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ایک طرف وہ عوام ہیں جو پٹرول،آٹا،چینی اور دیگر ضروری اشیاء کے لیے پریشان حال مارے مارے پھر رہےہیں،جبکہ دوسری طرف حکمران اشرافیہ اور ان کے خاندان،بیوی بچے اندرون، بیرون ملک ہر جگہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ریاستی وسائل پر قبضے سےحاصل ہونے والی مراعات،لگژری گاڑیاں،سرکاری پروٹوکول،مہنگے جہاز،دورے اور شاہانہ اخراجات یہ سب کس چیز کی علامت ہیں،کہاں سے آتے ہیں یہ لوگ اور ان کے اندھ بھگت سپورٹر۔اقتدار کا ڈھانچہ عوام کی جیبوں سے ایک ایک روپیہ نچوڑنے کے لیے کبھی لیوی،کبھی ٹیکس اور کبھی قیمتوں میں اضافے کا سہارا لیتا ہے،جبکہ انہی وسائل سے اشرافیہ کے لیے آسائشوں کے نئے دروازے کھولے جاتے ہیں۔اس کے نتیجے میں معاشرے میں احساسِ محرومی، نفسیاتی دباؤ،بے اعتمادی اور سماجی انتشار بڑھتا ہے اور بڑھتا جا رہا ہے۔سماجی علوم کے ماہرین کے مطابق جب معاشی ناہمواری حد سے بڑھ جائے تو صرف آمدنی کا فرق نہیں بڑھتا بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔

ایسی صورتحال میں ریاست عوام کے لیے ماں کے بجائے ایک بوجھ یا خوف کی علامت بننے لگتی ہے۔ بھارتی پنجاب میں وزیر اعلی بھگونت مان کی حکومت نے عوامی فلاح کے متعدد منصوبے متعارف کرائے ہیں جن میں چھ سو یونٹ تک مفت بجلی،محلہ کلینکوں کے ذریعے مفت طبی سہولیات،کسانوں کے لیے نہری پانی کو آخری ٹیل تک پہنچانے کی کوششیں،عالمی معیار کے سرکاری سکولوں کا قیام،شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دور دراز دیہات تک مضبوط سڑکوں کا جال بچھانا اور دیگر عوامی بہبود کے منصوبے شامل ہیں۔ان اقدامات کے بارے میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا بنیادی مرکز عام شہری کی زندگی میں عملی بہتری لانا ہے۔اس کے برعکس پاکستانی پنجاب کی شاہانہ آمرانہ طرز حکمرانی ایک بڑا محور یہ ہے کہ حقیقی بنیادی اصلاحات کے بجائے تشہیر اور میڈیا مینجمنٹ،عوام اور کاروباری طبقے کی حقیقی خوشی اور سکون کی بجائے ایک آدھ بڑے شہرکی”لیپا پوتی”،کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ناقدین کے مطابق کارکردگی کا بڑا حصہ میڈیا کوریج،اشتہارات،سوشل میڈیا مہمات،گلیوں،کوڑا دان ریڑھیوں،گٹروں اور لیٹرینوں تک محدود تصویری تشہیری سرگرمیوں میں نظر آتا ہے،جبکہ عوام کو درپیش بنیادی مسائل، مہنگائی،بیروزگاری،صحت،تعلیم اور معاشی و سماجی تحفظ کے سوالات اپنی پوری شدت کے ساتھ پھن پھیلائے کھڑے ہیں۔

تاریخ کا اصول واضح ہے کہ حکومتوں کی کامیابی کا فیصلہ اشتہارات نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی حقیقی اور دیرپا بہتر تبدیلی کرتی ہے،اور یہی وہ معیار ہے جس پر ہر حکمران کو بالاخر پرکھا جاتا ہے۔

بشیر بدر:
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts