قومیں صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں رہتی ، اُن کے نظریات ، ادارے اور محافظ بھی اُن کی بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔
جب کوئی دشمن کسی ملک کو کمزور کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اُس کے دفاعی اداروں پر حملہ کرتا ہے۔
کبھی بارود سے ، کبھی سازش سے اور کبھی الفاظ کے زہریلے تیروں سے۔

پاکستان برسوں سے اسی خاموش جنگ کا سامنا کر رہا ہے جہاں ایک طرف وطن کے سپاہی سرحدوں پر اپنی جانیں قربان کرتے ہیں تو دوسری طرف کچھ عناصر ہر وقت افواجِ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف رہتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں شہید کے لہو کی حرمت محسوس نہیں ہوتی۔ اُنہیں اُس ماں کے آنسو دکھائی نہیں دیتے جس نے اپنے جوان بیٹے کو وطن پر قربان کیا۔

اُن کے نزدیک ہر قربانی مشکوک اور ہر کامیابی متنازع ہوتی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے اندھیروں میں بیٹھ کر ایسے بیانیے تراشتے ہیں جن کا مقصد قوم اور اُس کے محافظوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ان کو معلوم نہیں کہ افواجِ پاکستان ایک عسکری ادارے سے بڑھ کر اس دھرتی کی سلامتی کی علامت ہے۔


یہی وہ جوان ہیں جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا۔ یہی سپوت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سینوں پر گولیاں کھا کر امن کی شمع روشن کرتے رہے۔ شمالی وزیرستان کے پہاڑ ہوں یا بلوچستان کی سنگلاخ وادیاں ، ملک کے چپے چپے پر انہی جوانوں نے اپنے خون سے وفا کی داستانیں رقم کی۔

افسوس یہ ہے کہ کچھ زبانوں کے حصے میں صرف نفرت آئی ہے۔ اُنہیں وطن کے محافظوں کی قربانیاں دکھائی نہیں دیتی جبکہ خامیاں تلاش کرنے کے لیے اُن کی نگاہیں بہت تیز ہو جاتی ہیں۔ وہ جھوٹے پروپیگنڈے ، من گھڑت خبروں اور نفرت انگیز گفتگو کے ذریعے نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرتے ہیں۔
ایسا رویہ اختلافِ رائے سے آگے بڑھ کر قومی وحدت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ تنقید ہر معاشرے کا حق ہے ، تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

اصلاح کے نام پر اداروں کی تذلیل کرنا ، شہداء کی قربانیوں کا مذاق اڑانا اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دینا حب الوطنی نہیں کہلا سکتا۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اپنے محافظوں کی بے توقیری برداشت نہیں کرتی۔



دنیا کی کوئی بھی قوم اپنے محافظوں کی بے توقیری برداشت نہیں کرتی۔ امریکہ ، چین اور برطانیہ سمیت ہر ملک میں فوج قومی غیرت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اپنے ہاں کچھ لوگ آزادیِ اظہار کے نام پر ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو دشمن کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جب زلزلے آتے ہیں ، سیلاب بستیاں بہا لے جاتے ہیں یا کوئی قدرتی آفت قوم کو گھیر لیتی ہے تو سب سے پہلے خاکی وردی والے ہی میدان میں دکھائی دیتے ہیں۔

فوج کے جوان ملبے تلے دبی سانسوں کو تلاش کرتے ، بھوکے لوگوں تک خوراک پہنچاتے اور بچوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرتے نظر آتے ہیں۔
اُن لمحوں میں فوج صرف محافظ نہیں ، انسانیت کا سب سے خوبصورت چہرہ بن جاتی ہے۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ چند لوگ زہر اگلتے ہیں ، دکھ اس بات کا ہے کہ بعض نوجوان بغیر تحقیق کے ہر بات کو سچ مان لیتے ہیں۔


سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں جھوٹ بہت جلد پھیل جاتا ہے۔
ایک جعلی ویڈیو ، ایک من گھڑت پوسٹ یا نفرت انگیز تقریر ذہنوں میں بداعتمادی کے بیج بو دیتی ہے۔
اسی لیے آج سب سے زیادہ ضرورت شعور ، تحقیق اور قومی یکجہتی کی ہے۔
وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں۔

اُن شہیدوں کی امانت بھی ہے جنہوں نے اپنے کل کو ہماری آج پر قربان کیا۔
جب کوئی شخص افواجِ پاکستان کے خلاف زہر اُگلتا ہے تو دراصل وہ اُن خاندانوں کے زخم تازہ کرتا ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو وطن پر قربان کیا۔
وہ اُن بچوں کی آنکھوں میں اداسی بھر دیتا ہے جو اپنے شہید باپ کی تصویر کو سینے سے لگا کر سوتے ہیں۔
دشمن ہمیشہ یہی کوشش کرتا ہے کہ قوم اور اُس کے محافظوں کے درمیان فاصلے پیدا کیے جائیں۔
اگر عوام اور افواج کے درمیان اعتماد کمزور ہو جائے تو دشمن کے عزائم مضبوط ہونے لگتے ہیں۔
بدقسمتی سے کچھ لوگ دانستہ یا نادانستہ اسی کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں۔

گو کہ آزاد ملک کے آزاد باشندوں کو حق ہے کہ وہ اختلاف کریں مگر تہذیب ، سچائی اور حب الوطنی کے دائرے میں رہ کر۔
سوشل میڈیا کے اس بھیانک دور میں ایک سیاسی پارٹی کے لورز کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات حقیقت نہیں ہوتی اور ہر بلند آواز مخلص نہیں ہوتی۔
افواجِ پاکستان اس وطن کی ڈھال ہے۔

اُن کے وجود سے پاکستان کے دشمن خوف کھاتے ہیں۔
یہ وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں بھی امید کی روشنی دیتے ہیں۔
اُن کے خلاف زہر اگلنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نفرت کے الفاظ وقتی شور تو پیدا کر سکتے ہیں ، شہداء کے لہو ، قوم کی محبت اور وطن سے وفا کے جذبے کو کبھی شکست نہیں دے سکتے۔

اس کا عملی مظاہرہ قوم معرکۂ حق میں کر چکی اور دشمن بھی یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہے۔
وقت گزر جاتا ہے ، کردار باقی رہتے ہیں۔
لفظ بکھر جاتے ہیں ، قربانیاں تاریخ میں امر ہو جاتی ہیں۔
جو لوگ اپنے ہی محافظوں کے خلاف نفرت کے بیج بوتے ہیں۔
وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ وطن صرف سیاسی نعروں یا اختلافات کا نام نہیں بلکہ اُن مقدس رشتوں کا عنوان ہے جو شہید کے خون سے جڑے ہوتے ہیں۔
پاکستان آج بھی قائم ہے ، کل بھی قائم رہے گا کیونکہ اس دھرتی کے محافظ اپنے سینوں میں وفا ، غیرت اور حب الوطنی کی وہ روشنی رکھتے ہیں جسے کوئی پروپیگنڈا بجھا نہیں سکتا۔
قوموں کی طاقت اُن کے اتحاد میں ہوتی ہے اور جب قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو دشمن کی ہر سازش ،
ہر نفرت اور ہر زہریلا بیانیہ وقت کے اندھیروں میں دفن ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts