معاشرے صرف قوانین، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتے۔ بلکہ ان رویّوں سے تشکیل پاتے ہیں جو انسان کو انسان سے جوڑتے ہیں۔ کسی بھی بستی کی اصل پہچان اس کے بازاروں، سڑکوں یا عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ بلکہ وہاں بسنے والے ان لوگوں سے ہوتی ہے۔ جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تعمیر میں ہمیشہ ایسے کرداروں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جنہوں نے اپنی ذات سے آگے بڑھ کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دی۔
عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز اپنی موٹر سائیکل پر سوار "ٹبہ کالیکی” کام کی غرض نکلا۔ مجھے اپنے آبائی قصبہ کالیکی منڈی کے قریب”ڈیرہ چوہدری انجم حبیب ” کا بورڈ آویزاں نظر آیا۔ ایسا منظر دیکھنے کا موقع ملا جس نے کئی سوالات اور کئی مثبت احساسات کو جنم دیا۔کھلے آسمان تلے مستحق اور ضرورت مند افراد کے لیے کھانے کا ایسا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں مدد لینے والوں کی عزتِ نفس کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی تھی۔ وہاں موجود لوگ خیرات لینے والے نہیں بلکہ مہمان دکھائی دے رہے تھے۔ کرسیوں پر بٹھا کر عزت و احترام سے کھانا پیش کیا جا رہا تھا۔ اور یہی وہ پہلو تھا جس نے اس عمل کو محض ایک فلاحی سرگرمی سے بڑھ کر ایک سماجی پیغام بنا دیا۔
درحقیقت معاشرے میں ضرورت صرف مدد کرنے والوں کی نہیں بلکہ ایسے طریقۂ کار کی بھی ہوتی ہے.۔ جو انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر اس کا ہاتھ تھام لے۔ بھوک مٹانا یقیناً نیکی ہے۔ لیکن کسی ضرورت مند کو عزت کے ساتھ کھانا کھلانا اس نیکی کو مزید خوبصورت بنا دیتا ہے۔ہمارے دیہی معاشرے میں آج بھی بے شمار ایسے خاندان موجود ہیں جو مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ لیکن اپنی خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ایسے میں اگر صاحبِ حیثیت افراد ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اور انہیں معاشرے کا قابلِ احترام فرد سمجھتے ہوئے مدد فراہم کریں۔ تو یہ عمل صرف ایک فرد کی مدد نہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔کالیکی منڈی اور اس کے گردونواح میں کئی ایسی شخصیات موجود ہیں۔ جو خاموشی کے ساتھ خدمتِ خلق کے سفر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ چوہدری انجم حبیب انہی افراد میں شامل ہیں۔ جو بیرونِ ملک قیام کے باوجود اپنے علاقے کے مستحق افراد سے رشتہ جوڑے ہوئے ہیں۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر مستحق خاندانوں کے لیے باوقار اجتماعی ضیافت، مالی معاونت، راشن کی فراہمی اور دیگر فلاحی سرگرمیاں ان کے سماجی شعور کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان خدمات کے تسلسل میں مسجد کے خطیب قاری اسد اللہ طور صاحب کی معاونت بھی قابلِ ذکر ہے۔ جو مستحق افراد کی نشاندہی اور فلاحی سرگرمیوں کی بہتر تنظیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسی طرح کالیکی منڈی سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد افضل ارائیں بھی عرصۂ دراز سے عوامی اور سماجی میدان میں متحرک ہیں۔ان کا پورا خاندان ان کے اس سماجی و فلاحی عمل میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ سابق چیئرمین یونین کونسل کی حیثیت سے عوامی مسائل کے حل کی کوششیں اور علاقائی خدمت میں ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔سیاست کے ساتھ ساتھ مستحق افراد کی معاونت، سماجی بھلائی کے کاموں اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں ان کی دلچسپی اس امر کی عکاس ہے۔ کہ خدمتِ خلق محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ ان کے بھائی بھی اس کارِ خیر میں شریک رہتے ہیں۔ جس سے یہ جذبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔
تاہم اس تحریر کا مقصد شخصیات کا تذکرہ نہیں بلکہ ان رویّوں کی نشاندہی ہے۔ جو معاشروں میں خیر کو فروغ دیتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ فلاں شخص نے کیا کیا۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایسے کام دوسروں کو بھی اس راستے پر چلنے کی ترغیب دے سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہی ان اعمال کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
|
نیکی کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ سفر کرتی ہے۔ ایک اچھا عمل جب دوسروں کی نظروں سے گزرتا ہے۔ تو دلوں میں نئے جذبے جنم لیتے ہیں۔ ایک شخص کسی غریب کی مدد کرتا ہے۔ تو دوسرا بھی اس کی تقلید پر آمادہ ہوتا ہے۔ یوں خیر کا ایک چھوٹا سا چراغ دیکھتے ہی دیکھتے روشنی کے ایک سلسلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔آج ہمارے معاشرے کو شاید بڑی بڑی تقریروں سے زیادہ ایسے عملی نمونوں کی ضرورت ہے۔ جو لوگوں کو احساس دلائیں۔ کہ خدمتِ خلق کسی خاص طبقے یا بڑے سرمایہ دار کی ذمہ داری نہیں۔ بلکہ ہر صاحبِ استطاعت فرد اپنی حیثیت کے مطابق اس میں حصہ ڈال سکتا ہے۔ کوئی ایک خاندان کا سہارا بن سکتا ہے۔ کوئی ایک طالب علم کی تعلیم کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ اور کوئی کسی ضرورت مند کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتا ہے۔
کالیکی منڈی کی دھرتی ہمیشہ سے محبت، رواداری اور بھائی چارے کی علامت رہی ہے۔ اگر اس دھرتی کے لوگ اسی جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کا سہارا بنتے رہے۔ تو یقیناً یہ روایت آنے والی نسلوں تک منتقل ہوگی۔ کیونکہ معاشروں کو زندہ رکھنے والے صرف وہ لوگ نہیں ہوتے۔ جو بڑے نام چھوڑ جاتے ہیں بلکہ وہ بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔وقت گزر جاتا ہے، نام دھندلا جاتے ہیں، عہدے اور منصب بھی ایک دن تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لیکن وہ نیکیاں کبھی فنا نہیں ہوتیں جو انسانوں کے دلوں میں امید، محبت اور احترام کے چراغ روشن کر جائیں۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، ضرورت مند کا سہارا بننا اور کسی مایوس آنکھ میں امید کی کرن جگانا۔ ایسے اعمال ہیں جو وقت کی گرد سے محفوظ رہتے ہیں۔
آج جب معاشرہ بے حسی، خودغرضی اور مادہ پرستی کے دبیز سائے میں گھرا دکھائی دیتا ہے۔ تو ایسے کردار یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت کا چراغ ابھی بجھا نہیں۔ اصل ضرورت ان شخصیات کی تعریف نہیں بلکہ ان کے طرزِ عمل سے سبق حاصل کرنے کی ہے۔ اگر ہمارے ہر گاؤں، ہر قصبے اور ہر شہر میں چند لوگ بھی اسی احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنے حصے کی روشنی بانٹنا شروع کر دیں۔ تو محرومیوں کے بہت سے اندھیرے خودبخود چھٹ سکتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ معاشروں کو زندہ رکھنے والے وہ لوگ نہیں ہوتے جو صرف اپنے لیے جیتے ہیں۔ بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں دلوں میں امید بوتے ہیں۔ اور اپنے عمل سے آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کے راستے متعین کر جاتے ہیں۔
