عصرِ حاضر کی سیاست میں سب سے اہم سوال صرف انتخابات،نشستوں یا اقتدار کی تقسیم کا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد،نمائندگی اور سیاسی جواز کا ہے۔
آزاد کشمیر کی 12مہاجر نشستوں پر جاری چپقلش بھی دراصل اسی وسیع تر سیاسی اور آئینی سوال کا اظہار ہے۔ کشمیری حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان 12 نشستوں کے ذریعے پاکستان کے مخصوص حلقے سیاسی عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں،جس کے نتیجے میں عوامی رائے کا احترام ختم ہو کر رہ گیا ہے۔دنیا بھر میں نوجوان نسل،خصوصا جین زی،روایتی سیاسی ڈھانچوں، موروثی اشرافیہ اور غیر شفاف سیاسی عمل کو چیلنج کر رہی ہے۔نیپال،بنگلہ دیش،بھارت اور دیگر معاشروں میں نئی نسل کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ ریاستی ادارے عوامی امنگوں کا احترام کریں کرپٹ ٹولے کے حواری و محافظ بننے کی بجائے ان کے حقیقی ترجمان بنیں۔جب حکمران طبقات عوام کے شعور،توقعات اور سیاسی احساسات کو سمجھنے میں ناکام ہوں تو مسائل محض انتظامی نہیں رہتے بلکہ سیاسی،سماجی بحران کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

سیاسی فلسفے کی تاریخ میں ان سوالات کا جواب تلاش کرنے والے مفکرین میں”تھامس ہل گرین”کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔انیسویں صدی کے اس برطانوی مفکر نے ریاست اور فرد کے تعلق کو اخلاقی اور سماجی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی۔گرین کے نزدیک ریاست کا وجود کسی مخصوص طبقے،اشرافیہ یا طاقتور گروہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کی فلاح،آزادی اور ترقی کے لیے ہے۔اس کی فکر نے جدید فلاحی ریاست کے تصور کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ریاست محض طاقت کا نام نہیں بلکہ اجتماعی انسانی ارادے اور رضامندی کا مظہر ہے۔ اگر ریاست اپنی اخلاقی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے عوامی خواہشات اور بنیادی حقوق کو نظر انداز کرے تو اس کی سیاسی ساکھ کمزور ہوکر ٹوٹ پھوٹ کا شکارہونا شروع ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ جمہوریتوں میں ریاستی طاقت کو آئینی،قانونی اور اخلاقی حدود کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ فرد اور معاشرے کے درمیان توازن برقرار رہے۔

گرین کا سب سے اہم نظریہ”حقِ مزاحمت” کے تصور سے متعلق ہے۔وہ ریاستی قوانین کے احترام کو ضروری قرار تو دیتا ہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ریاست قادر مطلق نہیں ہوتی۔اگر انصاف کا نظام کمزور ہو جائے،قوانین عوامی مفادات کے برعکس استعمال ہونے لگیں،آئینی ڈھانچے میں بلاجواز تبدیلیاں کی جائیں یا حکومت جابرانہ طرزِ عمل اختیار کر لے تو شہریوں کو پُرامن اور آئینی مزاحمت کا حق حاصل ہے۔اس فلسفے کا مقصد انتشار پیدا کرنا نہیں بلکہ ریاست کو اس کے اصل راستے پر واپس لانا ہے۔ جدید جمہوریتوں میں احتجاج،اختلافِ رائے،عوامی مکالمہ اور سیاسی تنقید اسی حق مزاحمت کی مہذب شکلیں سمجھی جاتی ہیں۔ریاست کی طاقت اور عوام کی آزادی کے درمیان یہی توازن سیاسی استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں اس توازن کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو عدم اعتماد،بے چینی اور سیاسی و سماجی انتشار جنم لیتا ہے۔

53 ممبران اسمبلی میں 33 جنرل سیٹیں 12 مہاجرین اور آٹھ مخصوص نشستیں ہیں۔آزاد کشمیر میں بارہ مہاجر نشستوں کے حوالے سے جاری بحث کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔کشمیری سیاسی حلقوں اور سماجی طبقات کا ایک مؤقف یہ ہے کہ موجودہ نظام میں ان نشستوں کی تعداد اور کردار سیاسی عمل پر غیر مناسب اثر ڈالتا ہے،جس کے باعث مقامی عوام کی رائے مکمل طور پر اسمبلی کی تشکیل میں ظاہر نہیں ہو پاتی۔کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ساخت میں یہ نشستیں ایک اہم عنصر ہیں،اس لیے ان کے بارے میں اختلافِ رائے کو محض سیاسی مخالفت قرار دینے کے بجائے سنجیدگی سے سنا جائے یہی بہتر ہے۔ جمہوری معاشروں میں کسی بھی انتظامی یا آئینی بندوبست پر سوال اٹھانا بغاوت نہیں بلکہ سیاسی ارتقا کا حصہ ہوتا ہے۔اگر کسی طبقے یا خطے کے لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی سیاسی نمائندگی متاثر ہو رہی ہے تو ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ مکالمے، مشاورت اور آئینی اصلاحات کے ذریعے ان خدشات کا جائزہ لے۔

کشمیر کی سماجی اور فکری ساخت بھی اس معاملے کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔خطہ کشمیر اعلی شرح خواندگی، سیاسی شعور اور سماجی تحرک کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک،خصوصاً برطانیہ اور مغربی معاشروں میں کشمیری نژاد افراد تعلیم،سیاست،کاروبار اور عوامی خدمات کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں
کشمیری عمومی طور پر مہذب،قانون پسند،محنتی،انسان دوست اور سیاسی طور پر بہت سنجیدہ اورحساس ہیں۔ایسےمیں طاقت کے استعمال کے بجائے دلیل،مکالمے اور اعتماد سازی کے ذریعے مسائل کا حل زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔جدید دنیا میں انٹرنیٹ سوشل میڈیا کی بدولت اطلاعات کی تیز رفتار ترسیل نے مقامی مسائل کو بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے،اس لیے دانشمندانہ حکمت عملی یہی ہے کہ اختلافات کو تصادم میں بدلنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

عالمی سیاست کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مضبوط ریاستیں وہ نہیں ہوتیں جو صرف طاقت کا مظاہرہ کریں بلکہ وہ ہوتی ہیں جو اپنے شہریوں کی آواز سننے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ریاستی استحکام اور قومی یکجہتی کا انحصار مخصوص مفاداتی گروہ کی بجائے عوام کے اعتماد پر ہوتا ہے،اور اعتماد صرف شفافیت،انصاف اوراصل نمائندگی سے پیدا ہوتا ہے۔کشمیر اور پاکستان کے تعلقات کی بنیاد محض آئینی بندوبست نہیں بلکہ ایک گہرا تاریخی،جذباتی اور سیاسی رشتہ بھی ہے۔ایسے میں بارہ نشستوں کا مسئلہ محض عددی تنازع نہیں بلکہ اعتماد،شراکت اور سیاسی اختیار کے احساس سے جڑا ہوا سوال ہے۔ اگر ریاست اور عوام باہمی احترام، مکالمے اور آئینی بصیرت کے ساتھ آگے بڑھیں تو اختلافات بھی قومی طاقت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔یہی وہ سبق ہے جو تھامس ہل گرین کے سیاسی فلسفے، جدید جمہوریتوں کے تجربات اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست سے حاصل ہوتا ہے کہ طاقت کے بجائے اعتماد،جبر کے بجائے مکالمہ اور بالادستی کے بجائے شراکت داری ہی پائیدار استحکام کی ضمانت ہے۔
کشمیر اور کشمیری عوام کی پاکستان اور پاکستانی عوام سے محبت اور جڑت کے سامنے 12 سیٹوں کی کیا حیثیت تھوڑا نہیں پورا سوچیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts