آج جب زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ملتی. تو بار بار دل ماضی کی ان حسین گلیوں میں بھٹکنے لگتا ہے. جہاں بچپن، لڑکپن اور جوانی کے ابتدائی دن ایک خوبصورت خواب کی طرح آباد تھے۔ وہ دن سادہ تھے مگر خوشیوں سے بھرپور تھے. وسائل محدود تھے مگر دل مطمئن تھے. خواہشات کم تھیں مگر سکون زیادہ تھا۔آج بازار ہماری ضرورتوں کا تعین کرتے ہیں. جبکہ ہمارے بچپن میں بازار صرف ضرورت پوری کرنے کی جگہ ہوا کرتے تھے۔ ہم خریداری کے لیے جاتے تھے خواہشات خریدنے کے لیے نہیں۔ زندگی کی خوبصورتی اسی سادگی میں پوشیدہ تھی.گھر میں جو میسر ہوتا اسی پر شکر ادا کیا جاتا اور جو نہیں ہوتا اس کی حسرت دل میں جگہ نہیں بناتی تھی۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ عید کا چاند نظر آتے ہی پورا محلہ خوشیوں سے جگمگا اٹھتا تھا۔ عید کی آمد صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک مکمل احساس ہوا کرتی تھی۔ اور عید کے لئے سب سے بڑی خوشی نئے کپڑوں اور نئے جوتوں کی ہوتی تھی۔ عید سے کئی دن پہلے دوستوں کے ساتھ بیٹھک لگتی اور عید کی تیاریوں پر تفصیلی مشاورت ہوتی۔ کون سا کپڑا اچھا رہے گا؟ کس درزی سے سوٹ سلوایا جائے؟ جوتوں کا ڈیزائن کیا ہو؟ اور کون سا رنگ سب سے زیادہ جچے گا؟ یہ تمام فیصلے اجتماعی مشورے سے ہوتے تھے۔اس زمانے میں دوست صرف دوست نہیں ہوتے تھے بلکہ خاندان کا حصہ ہوتے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں بلا جھجھک آتے جاتے تھے۔ محلے کی گلیاں ہماری دنیا تھیں۔ کبھی کرکٹ، کبھی کنچے، کبھی پٹھو گرم اور کبھی چھپن چھپائی کے کھیل شام تک جاری رہتے۔ نہ موبائل فون تھے نہ انٹرنیٹ اور نہ ہی سوشل میڈیا لیکن اس کے باوجود تنہائی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ دوستی خلوص پر قائم تھی مفاد پر نہیں۔ اگر کسی دوست کے گھر کوئی خوشی ہوتی تو پورا محلہ خوشی مناتا اور اگر کوئی مشکل آتی تو سب اس کے ساتھ کھڑے ہوتے۔عید کی خوشیوں کا ایک اور خوبصورت پہلو عید کارڈز تھے۔ بازار جا کر بڑی محبت سے کارڈ منتخب کیے جاتے۔ پھر عزیزوں اور رشتہ داروں کے لیے مناسب اشعار تلاش کیے جاتے
۔ اور خوبصورت الفاظ میں دعائیں لکھی جاتیں۔ اس کے بعد خود پوسٹ آفس جا کر انہیں روانہ کیا جاتا۔ ان کارڈز میں صرف الفاظ نہیں ہوتے تھے بلکہ محبت، احترام اور تعلق کی خوشبو بھی شامل ہوتی تھی۔ جب جواب میں کوئی عید کارڈ موصول ہوتا تو خوشی دوبالا ہو جاتی۔ آج ایک بٹن دبانے سے سینکڑوں لوگوں کو پیغام بھیجا جا سکتا ہے۔مگر ہاتھ سے لکھے گئے ایک کارڈ کی تاثیر آج بھی دل میں زندہ ہے۔گھر کا ماحول بھی اپنی مثال آپ تھا۔ میرے ابا جی آرمی کے ریٹائرڈ حوالدار تھے۔ وہ نظم و ضبط، اصول پسندی اور صفائی کے معاملے میں بے حد حساس تھے۔ ان کی شخصیت میں فوجی زندگی کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔گھر میں ہر چیز اپنی جگہ پر رکھی جاتی تھی۔ صفائی ستھرائی کا ایسا اہتمام ہوتا کہ گھر میں داخل ہوتے ہی ترتیب اور نفاست کا احساس ہوتا۔

آج اگر زندگی میں نظم و ضبط اور صفائی کی کوئی عادت موجود ہے۔ تو یہ انہی کی تربیت کا نتیجہ ہے۔میری امی جان رسمی تعلیم سے محروم تھیں۔ لیکن گھرداری، تربیت اور اخلاق کے میدان میں ایک مکمل درسگاہ تھیں۔ وہ ایک نہایت سگھڑ، محنتی اور سلیقہ شعار خاتون تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے عجیب برکت رکھی تھی۔ وہ جو بھی پکاتیں، اس میں محبت کا ایسا ذائقہ شامل ہوتا کہ کھانے والا انگلیاں چاٹتا رہ جاتا۔ سادہ دال، سبزی یا روٹی بھی ان کے ہاتھ کا کمال بن جاتی تھی۔ آج بڑے بڑے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے کھانے بھی اس ذائقے کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ جو ماں کی محبت سے بھرے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ہفتے میں ایک بار جب ابا جی گھر گوشت لاتے تھے۔ اتوار کا دن ہمارے گھر میں خصوصی اہمیت رکھتا تھا۔ ابا جی گوشت کے ساتھ چاولوں کا زردہ ضرور تیار کرواتے۔ زردے کی خوشبو پورے گھر میں پھیل جاتی۔کشمش، بادام اور میٹھی مہک سے فضا معطر ہو جاتی۔ صبح ناشتے میں میٹھی ڈبل روٹی منگوائی جاتی اور پورے گھر کے افراد ایک ہی۔دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اصل خوشی انہی لمحوں میں تھی جب سب ایک ساتھ بیٹھتے، ہنستے، باتیں کرتے اور وقت کی کوئی جلدی نہیں ہوتی تھی۔اس دور میں والدین کی تربیت زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی تھی۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں سے محبت، پڑوسیوں کا خیال اور مہمان نوازی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ اگر کسی گھر میں کوئی مہمان آ جاتا تو پورا گھر اس کی خدمت میں لگ جاتا۔اور وہ پورے محلے کا مہمان ہوتا تھا ۔ رشتے صرف نام کے نہیں ہوتے تھے بلکہ نبھائے بھی جاتے تھے۔وقت کے ساتھ دنیا نے بے شمار ترقی کی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے۔ فاصلے کم کیے ہیں اور سہولتیں فراہم کی ہیں۔ لیکن اس ترقی کے ساتھ ساتھ ہم نے بہت کچھ کھویا بھی ہے۔آج ہر شخص مصروف ہے۔ ہر شخص جلدی میں ہے اور ہر شخص اپنی ذات کے گرد ایک دائرہ بنا چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے رابطے بڑھائے ہیں مگر تعلقات کمزور کر دیے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

دوستیوں کا معیار بھی بدل گیا ہے۔پہلے دوست مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ آج اکثر تعلقات مفادات اور سٹیٹس کے ترازو میں تولے جاتے ہیں۔ پہلے انسان کو اس کے کردار سے پہچانا جاتا تھا۔اب اکثر اس کی حیثیت اور وسائل کو دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار سہولتوں کے باوجود دلوں میں ایک خلا محسوس ہوتا ہے۔آج کی نسل شاید ان خوشیوں کا تصور بھی نہ کر سکے جو ایک عید کارڈ، ایک نئے جوڑے، ایک خاندانی دسترخوان یا دوستوں کے ساتھ گلی میں کھیلنے سے حاصل ہوتی تھیں۔ لیکن یہ یادیں ہمارے لیے محض ماضی نہیں بلکہ ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل خوشی سادگی، محبت، قناعت اور رشتوں میں پوشیدہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف جدید تعلیم ہی نہ دیں۔ بلکہ انہیں ان اقدار سے بھی روشناس کرائیں جو ہمارے معاشرے کی اصل پہچان ہیں۔ انہیں بتائیں کہ دولت ضروری ہے مگر سب کچھ نہیں۔ اچھے دوست، مضبوط رشتے، والدین کی دعائیں، گھر کا سکون اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے وقت کا سفر رکے گا نہیں۔ آج کا یہ دور بھی کل یادوں کا حصہ بن جائے گا۔ شاید چند برس بعد ہمارے بچے بھی اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے یہی کہیں۔ کہ کبھی ایک زمانہ تھا جب لوگ ایک دوسرے سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ خاندان زیادہ قریب تھے اور زندگی زیادہ سادہ تھی۔تب شاید ہماری طرح ان کے دل سے بھی یہی صدا بلند ہو۔”کاش وہ وقت لوٹ آئے، جب ماؤں کے ہاتھوں میں محبت کا ذائقہ تھا۔باپ کی تربیت میں زندگی کا سبق تھا۔ دوستی میں خلوص تھا۔ رشتوں میں اپنائیت تھی اور خوشیاں خریدنی نہیں پڑتی تھیں۔ بلکہ دلوں میں خود بخود جنم لیتی تھیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts