وقت بھی عجب شے ہے۔ نہ کسی کے لیے ٹھہرتا ہے، نہ کسی کی ضد مانتا ہے، اور نہ ہی کسی طالب علم کے
"کل سے پکا آغاز” والے وعدوں پر اعتبار کرتا ہے۔
یہ اپنی بے نیازی سے گزرتا رہتا ہے اور پیچھے ہم جیسے لوگ رہ جاتے ہیں جو ماضی کی الماری کھول کر یادوں کی گرد آلود فائلیں جھاڑتے رہتے ہیں اور ہر پرانی تصویر پر ایک نئی مسکراہٹ چسپاں کر دیتے ہیں۔
ویسے اگر ہمارے بچپن کی پوری داستان صرف ایک لفظ میں بیان کرنی ہو تو وہ لفظ شاید "چپیڑ” ہی ہوگا۔
یہ کوئی معمولی لفظ نہیں بلکہ ایک پورا عہد، ایک مکمل نظام اور ایک ایسی غیر سرکاری تربیتی پالیسی تھی جس کی افادیت پر گھر، سکول اور محلے کے تمام متعلقہ اداروں کا مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا تھا۔
آج کے ماہرینِ تعلیم جس چیز کو کردار سازی ، اصلاحِ عادات اور شخصیت سازی کے نام سے یاد کرتے ہیں، ہمارے زمانے میں اس کا مختصر، جامع اور عملی نام صرف "چپیڑ” تھا۔
دن کا آغاز ہی عموماً چپیڑ کے امکانات سے ہوا کرتا تھا۔
فجر کی اذان ہوئی نہیں کہ پہلی تنبیہ جاری ہو جاتی۔ اگر مسجد جانے میں تاخیر ہو گئی تو پہلی چپیڑ بطورِ یاددہانی وصول ہوتی۔ اگر کسی معجزے کے تحت بروقت مسجد پہنچ بھی گئے تو واپسی پر دوسری چپیڑ اس سوال کے ساتھ تیار کھڑی ملتی کہ "اتنی دیر کہاں لگا دی ؟”
یوں بچپن میں ہمیں جلد ہی یہ ادراک ہو گیا تھا کہ زندگی میں بعض سوالوں کے درست جواب نہیں ہوتے، صرف مختلف نوعیت کی چپیڑیں ہوتی ہیں۔
پھر سکول جانے کی باری آتی۔ اگر چہرے کے تاثرات سے یہ شبہ ہو جاتا کہ آج تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ معمول سے کچھ کمزور ہے تو ایک احتیاطی چپیڑ بطورِ پیشگی ضمانت وصول کروا دی جاتی تاکہ قوم کا ایک ممکنہ ڈاکٹر ، انجینئر، استاد یا کم از کم ایک ذمہ دار شہری وقت پر سکول پہنچ سکے۔
آج کے بچے، جنہیں ہم بڑی محبت سے "نئی نسل” کہتے ہیں، ایسے سہولت یافتہ ماحول میں پرورش پا رہے ہیں کہ اگر ہم اپنے بچپن کی یہ داستانیں سنائیں تو وہ یا تو ہنسنے لگتے ہیں یا حیرت سے ہماری طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ موبائل، سماجی ذرائع ابلاغ، ایئر کنڈیشنڈ کمروں اور بازاری خوراک کی دنیا میں ان کا بچپن اس قدر پالش ہو چکا ہے کہ زندگی کی معمولی سی سختی بھی انہیں غیر معمولی آزمائش محسوس ہوتی ہے۔
ہمیں اپنا بچپن یاد آتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی پرانی فلم کی ریل اچانک چل پڑی ہو؛ جس میں رنگ کم مگر حقیقت زیادہ تھی، سہولتیں کم مگر خوشیاں زیادہ تھیں، جیبیں خالی مگر دل بھرے ہوئے تھے۔
ہمارے زمانے کے سکول بھی ایک الگ ہی دنیا تھے۔ بوہڑ سکول، قابلی ککر سکول، پیپل سکول، دربار سکول اور مندر سکول۔ نام مختلف تھے، عمارتیں بہت کم تھیں اور ماحول بھی مختلف تھا، مگر ایک چیز سب میں مشترک تھی: استادِ محترم کا رعب اور ” چپیڑ ” کی نظریاتی موجودگی۔
استادِ محترم کا کلاس میں داخلہ کسی ہنگامی قومی اعلان سے کم نہ ہوتا تھا۔ مکمل خاموشی، مکمل احترام اور مکمل خوف ، یہ تینوں عناصر ایسے یکجا ہو جاتے جیسے کسی تجربہ گاہ میں خطرناک گیسیں ایک ساتھ رکھ دی گئی ہوں۔
آج کے بچے شاید یقین نہ کریں مگر بعض اوقات استاد کی صرف ایک نظر ہی اتنا اثر رکھتی تھی جتنا آج کل پورے سمسٹر کی رہنمائی بھی نہیں رکھتی۔
کلاس میں اگر کوئی طالب علم، جسے ہم اُس وقت "فتنہ”
اور بعد میں "بہادر”
کہنے پر مجبور ہو گئے، یہ کہہ دیتا کہ "سر!
آپ نے آج ٹیسٹ لینے کا کہا تھا”، تو پوری جماعت کے دلوں پر قیامت گزر جاتی۔ اس وقت ہمیں یقین ہو جاتا تھا کہ قوموں کے زوال کی بنیادی وجوہات میں ایسے بچوں کا کردار ضرور شامل ہوگا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ اُس دور میں طلبہ کی صرف دو اقسام تھیں ایک وہ جو ہمیشہ تیار رہتے تھے ،
اور دوسرے وہ جو ہمیشہ تیاری کا ارادہ رکھتے تھے۔ پہلی قسم اساتذہ کو پسند تھی اور دوسری قسم ہمیں ۔
اور پھر اصل مرکزی کردار آتا تھا ۔
"چپیڑ”۔
یہ کوئی عام جسمانی عمل نہیں تھا بلکہ ایک غیر سرکاری تعلیمی پالیسی تھی۔ کبھی میز پر ہاتھ، کبھی گھورنے کی تاریخی تکنیک، اور کبھی کبھار ایک ایسی چپیڑ جو نہ صرف چہرہ سیدھا کرتی تھی بلکہ زندگی کے زاویے بھی کافی حد تک درست کر دیتی تھی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد نہ والدین کو فون کیا جاتا تھا، نہ کوئی کمیٹی بنتی تھی اور نہ ہی محلے میں کوئی احتجاجی تحریک چلتی تھی۔ چند منٹ بعد وہی طالب علم استاد کے پاس کسی سوال کے جواب کے لیے کھڑا ہوتا تھا۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے چپیڑ نے ناراضی نہیں بلکہ ہماری تربیت کے نظام کی تجدید کر دی ہو۔
سکول سے واپسی بھی کسی سرکاری معائنے سے کم نہ ہوتی تھی۔ تقریباً ہر طالب علم کی ابا حضور سے ملاقات طے شدہ معمول کے مطابق ہوا کرتی تھی۔ مغرب تک کے تمام کام ایک ہی سانس، ایک ہی گھوری اور کبھی کبھار ایک ہی چپیڑ میں سمجھا دیے جاتے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی مختصر بریفنگ کے باوجود تمام احکامات مکمل طور پر سمجھ بھی آ جاتے تھے اور یاد بھی رہتے تھے۔
گھر کا ماحول بھی کم دلچسپ نہ تھا۔ والد صاحب کی ایک گھوری ہماری شخصیت پر وہی اثر چھوڑتی تھی جو آج کل درجنوں تربیتی خطبات، ترغیبی نشستیں اور خود سازی کی کتب مل کر بھی نہیں چھوڑتیں ۔ والدہ محترمہ کا "ہلکا سا ہاتھ” دراصل ایک ایسا جامع نصاب تھا جس میں نظم، ضبط، ادب، خاموشی، برداشت اور وقت کی پابندی سب کچھ ایک ہی سبق میں پڑھا دیا جاتا تھا۔
مالی معاملات میں بھی ہماری تربیت خاصی منفرد تھی۔ کوئی رشتے دار جاتے ہوئے دس روپے دے جاتا تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہتا، مگر مہمان کے جاتے ہی والدہ محترمہ کی غیر سرکاری وزارتِ خزانہ متحرک ہو جاتی۔ دس میں سے آٹھ روپے مختلف گھریلو منصوبوں کے لیے مختص ہو جاتے اور باقی دو روپے بطورِ ترقیاتی فنڈ ہمارے حوالے کر دیے جاتے۔
اس زمانے میں معیشت ہمیں پڑھائی نہیں جاتی تھی، عملاً نافذ کی جاتی تھی۔
” ٹیلی ویژن بھی ایک عجیب مخلوق تھا۔ اگر خراب ہو جائے تو الزام بچوں پر ، اور اگر بچے بگڑ جائیں تو الزام ٹیلی ویژن پر”
یوں وہ ہمیشہ ایک آئینی بحران کا شکار رہتا؛ کبھی ملزم، کبھی گواہ اور کبھی خود ہی ثبوت۔
ہائے ہائے بارش ، مولا خوش رکھے !
یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔ پوری رات برستی رہتی، امیدوں کے جلسے کرواتی، خوابوں کے منشور جاری کرتی اور ہمیں یقین دلاتی کہ کل سکول بند ہوگا۔ مگر صبح سکول کے وقت اچانک غائب ہو جاتی اور سورج پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہو کر ہماری تمام امیدوں کی ضمانت ضبط کر لیتا۔
ان تمام مزاحیہ واقعات کے باوجود ایک حقیقت بڑی خاموشی سے ہمارے ساتھ چلتی رہی۔
ہمارے بزرگوں نے ہمیں آسائشیں کم دیں مگر شخصیت بھرپور دی۔ انہوں نے ہمیں سہولتیں کم دیں مگر حوصلہ زیادہ دیا۔ انہوں نے ہمیں ہر خواہش فوراً پوری کرنا نہیں سکھایا بلکہ انتظار کرنا سکھایا۔ انہوں نے ہمیں صرف کامیابی حاصل کرنا نہیں سکھایا بلکہ ناکامی برداشت کرنا بھی سکھائی۔
آج کی نسل یقیناً زیادہ ذہین، زیادہ باخبر اور جدید علوم و فنون سے زیادہ آشنا ہے، مگر بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ معلومات کے اس سمندر میں کہیں سادگی کے چند چشمے خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ گلیاں، وہ کھیل، وہ مشترکہ قہقہے، وہ بے تکلف رشتے اور وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں شاید اب یادوں کی کسی پرانی الماری میں منتقل ہو چکی ہیں۔
کلام مختصر کہ
یادوں کی گلیوں سے ایک مدھم سی مسکراہٹ ابھرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پرانا استاد دور کھڑا مسکرا رہا ہو اور آہستہ سے کہہ رہا ہو ،
"زندگی کا اصل سبق کتابوں میں نہیں، کردار میں لکھا جاتا ہے۔ اور کردار کی اس کتاب کے کچھ صفحات ہم نے محبت سے پڑھے تھے، کچھ نصیحت سے، اور چند ایک چپیڑ سے بھی۔”
آج پلٹ کر دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں صرف تعلیم نہیں دی گئی تھی، ہمیں زندگی سکھائی گئی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس زمانے کے نصاب میں ابواب کم اور تجربات زیادہ تھے۔ انہی تجربات میں کہیں ماں کی دعا تھی، کہیں باپ کی گھوری ، کہیں استاد کی نصیحت، اور کہیں ایک یادگار چپیڑ۔
اور سچ پوچھیے تو وقت کی گرد جھاڑنے کے بعد بچپن کی پوری کتاب کا عنوان آج بھی وہی دکھائی دیتا ہے ۔
” چپیڑ نامہ
