تاریخ کا سفر کبھی بھی یکایک اور بغیر کسی سبب کے رخ نہیں بدلتا، بلکہ اس کے پسِ پردہ برسوں بلکہ دہائیوں پر محیط سیاسی، فکری، اقتصادی اور عسکری تبدیلیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ کے میدانِ کارزار سے اٹھنے والا دھواں اور عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں پائی جانے والی بے چینی اس حقیقت کا اظہار ہے کہ بین الاقوامی نظام ایک اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں رونما ہونے والے واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ طاقت کے روایتی مراکز کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے اور عالمی سیاست تیزی سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
اگر تاریخ کے جھروکوں میں جھانکا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عسکری برتری ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔ انیسویں صدی میں برطانیہ نے افیون کی جنگوں کے ذریعے چین پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی اور وقتی فوائد بھی حاصل کیے، لیکن اسی دور نے ایشیا میں قومی شعور اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کی بنیادیں بھی مضبوط کیں۔ بیسویں صدی میں ویت نام اور اکیسویں صدی میں افغانستان کے تجربات نے بھی ثابت کیا کہ جدید ترین عسکری قوت بھی ہر میدان میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ یہی تاریخی سبق آج مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ منظرنامے میں ایک بار پھر نمایاں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ، ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور مزاحمتی قوتوں پر دباؤ بڑھانا تھا۔ تاہم زمینی حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنا آسان ثابت نہیں ہوا۔ لبنان، غزہ، شام، عراق اور خلیج کے گرد و نواح میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب ماضی کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی خطہ بن چکا ہے۔ عسکری طاقت کے باوجود واشنگٹن کو اپنے تمام سٹریٹیجک اہداف حاصل کرنے میں نمایاں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ خطے کی مختلف قوتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی صف بندیاں کر رہی ہیں۔
اس تمام صورتحال میں اسرائیل کو اپنی تاریخ کے مشکل ترین سفارتی اور عسکری چیلنجز کا سامنا ہے۔ غزہ کی طویل جنگ، لبنان کی سرحدی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید نے اسرائیل کی عسکری برتری کے تصور کو غیر معمولی امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل اب بھی خطے کی ایک طاقتور عسکری قوت ہے، لیکن یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ حالیہ تنازعات نے اس کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حیثیت پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ جنگ بندی کی مختلف کوششیں اور عالمی سطح پر بڑھتا ہوا دباؤ اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ محض عسکری طاقت اب مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتی۔
مشرقِ وسطیٰ کے اس بدلتے ہوئے نقشے نے بھارت کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ نئی دہلی کے پیٹ میں اٹھنے والے مروڑ بھی کسی حد تک فطری دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ بھارتی پالیسی سازوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنی علاقائی حکمتِ عملی کا ایک بڑا حصہ امریکہ، اسرائیل اور مغربی حمایت کے گرد استوار کیا تھا۔ ’’مڈل ایسٹ اکنامک کوریڈور‘‘ سمیت متعدد منصوبوں کے ذریعے بھارت یہ امید رکھتا تھا کہ وہ خطے میں اپنی معاشی اور سفارتی رسائی کو غیر معمولی حد تک وسعت دے سکے گا۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے ان منصوبوں کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت کا وہ مکر و فریب اور وسیع پروپیگنڈا نیٹ ورک، جو برسوں سے پاکستان کے خلاف مختلف محاذوں پر سرگرم رہا، اب پہلے جیسی مؤثریت کا حامل دکھائی نہیں دیتا۔ آج جب دنیا یک قطبی نظام سے نکل کر ایک زیادہ پیچیدہ اور کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے تو نئی دہلی خود کو ایک ایسے چوراہے پر کھڑا پاتا ہے جہاں پرانے عالمی معادلات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے نئے عالمی فورمز عالمی سیاست میں نئے توازن کی نشاندہی کر رہے ہیں اور یہی تبدیلیاں آنے والے برسوں میں عالمی صف بندیوں کی سمت متعین کریں گی۔
اس بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو نسبتاً متوازن اور حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت نے خطے کے پیچیدہ حالات میں جذباتی ردِعمل کے بجائے محتاط سفارت کاری کو ترجیح دی۔ پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، خطے کی خودمختاری اور مسلم دنیا کے باہمی تعاون کے اصولی مؤقف کو مسلسل برقرار رکھا، جبکہ براہِ راست علاقائی تصادم سے خود کو دور رکھنے کی پالیسی اختیار کی۔
خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی بہتری نے اسلام آباد کی سفارتی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری صلاحیت، اقتصادی راہداریوں اور علاقائی روابط کے باعث خطے کے اہم سٹیک ہولڈرز میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل کے کسی بھی بڑے علاقائی فریم ورک میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
تاہم مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کو صرف عسکری اور سیاسی زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ یہ بحران عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارتی راستوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر اہم بحری راستے عالمی تجارت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں عدم استحکام نہ صرف تیل اور گیس کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ عالمی اقتصادی نمو پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں عسکری مقابلے کے ساتھ ساتھ جیو اکنامک مفادات کے تحفظ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کر رہی ہیں۔
تاہم اس پورے منظرنامے کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر پاکستان کے پالیسی سازوں، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ کوئی ملک محض جغرافیائی اہمیت، عسکری قوت یا سفارتی مہارت کے بل بوتے پر طویل عرصے تک مستحکم نہیں رہ سکتا۔ قومی طاقت کی اصل بنیاد اندرونی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی، عوامی اعتماد اور سیاسی بلوغت ہوتی ہے۔ بیرونی محاذ پر حاصل ہونے والی کامیابیاں اسی وقت پائیدار بنتی ہیں جب ان کی جڑیں اندرونِ ملک مضبوط ہوں۔
سیاسی اختلافات جمہوری معاشروں کا حسن ہوتے ہیں، لیکن جب اختلافِ رائے مستقل محاذ آرائی، باہمی بے اعتمادی اور قومی تقسیم کی شکل اختیار کر لے تو اس کی ارتعاشی لہریں ریاست کے پورے وجود کو متاثر کرنے لگتی ہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی کشیدگی محض ایوانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ قومی یکجہتی، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی اس کی زد میں آ جاتی ہے، جو بالآخر ریاستی عدم استحکام کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے حقیقی تقاضوں، عوامی رائے کے احترام، سیاسی شمولیت اور قومی اتفاقِ رائے کو فروغ دینا محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی کا تقاضا بھی ہے۔
نویدِ سعید یہی ہے کہ ریاستوں کی اصل طاقت صرف عسکری صلاحیت، جغرافیائی اہمیت یا بین الاقوامی اتحادوں میں نہیں ہوتی بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو عوام اپنے نظامِ حکومت، ریاستی اداروں اور قومی قیادت پر رکھتے ہیں۔ جب یہ اعتماد مضبوط ہو تو بیرونی دباؤ بھی قوموں کو متزلزل نہیں کر سکتا، لیکن جب داخلی سطح پر فاصلے بڑھنے لگیں تو ان کی ارتعاشی لہریں رفتہ رفتہ قومی طاقت کی بنیادوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کے تمام سیاسی، عسکری اور ریاستی ذمہ داران پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وقتی مصلحتوں سے بلند ہو کر ایسے فیصلے کریں جو قومی یکجہتی، عوامی اعتماد اور ریاستی استحکام کو مضبوط بنائیں، کیونکہ آنے والے دور کی کامیابی صرف بیرونی محاذوں پر نہیں بلکہ داخلی استحکام اور قومی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔
آج کی دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور دکھائی دیتی ہے کہ طاقت کا مرکز بتدریج ایک سے زیادہ قطبین میں تقسیم ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کسی ایک طاقت کا دور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، تاہم یہ حقیقت ضرور ہے کہ عالمی سیاست اب پہلے سے کہیں زیادہ متنوع اور پیچیدہ شکل اختیار کر رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار اثر و رسوخ صرف عسکری طاقت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اقتصادی استحکام، سیاسی دانش، سفارتی توازن اور اخلاقی جواز بھی اس کے لازمی عناصر ہوتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ حالات اسی حقیقت کی یاد دہانی کروا رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں وہی ریاستیں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گی جو طاقت اور تدبر، مفادات اور اصولوں، اور سلامتی و ترقی کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں گی۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ مستقبل کی کامیابی، قومی استحکام اور علاقائی وقار کی ضمانت بن سکتا ہے
