پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان سے چین کے قونصل جنرل سن یان نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور پنجاب میں جدید ٹرانسپورٹ منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اس موقع پر وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے چینی کمپنیوں کو پنجاب میں الیکٹرک وہیکلز اور ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام متعارف کرانے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
بلال اکبر خان نے بتایا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں مرحلہ وار الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرک بسیں شامل کی جا رہی ہیں جبکہ مزید 2000 بسوں کے ذریعے تحصیل کی سطح تک سفری سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بسوں کی چارجنگ کے لیے گرین بس ڈپوز قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک بسوں کے منصوبے کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے اور لوگوں میں اس حوالے سے غیر معمولی خوشی پائی جاتی ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے مزید بتایا کہ حکومت پنجاب کی پوری توجہ گرین ٹرانسپورٹ سسٹم کے فروغ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیکس اسکیم کے دوسرے مرحلے میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی جبکہ عوام کو سستی اور معیاری سفری سہولیات دینے کے لیے ای ٹیکسی اسکیم بھی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے پہلے مرحلے میں 1100 جبکہ دوسرے مرحلے میں 5 ہزار گاڑیاں شامل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ سموگ کے تدارک کے لیے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف قوانین میں نئی ترامیم بھی کی گئی ہیں۔
بلال اکبر خان نے کہا کہ گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں نئے ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو جدید اور بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
چینی قونصل جنرل سن یان نے پنجاب حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے مختلف ٹرانسپورٹ منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا اور مستقبل میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی
