بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس کا مجموعی حجم 1089 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ یہ بجٹ مکمل طور پر ٹیکس فری ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ بجٹ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیا۔

وزیر خزانہ کے مطابق صوبائی حکومت نے گزشتہ مالی سال میں مختص بجٹ سے زیادہ اخراجات کیے اور بجٹ کا 115 فیصد استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق رواں سال صوبے کی آمدن 886 ارب روپے رہی جبکہ آئندہ مالی سال میں اخراجات کا مجموعی تخمینہ 1089 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے اور ملازمین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے بڑی رقوم مختص کی گئی ہیں۔ غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 797 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں نئے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ پہلے سے جاری اسکیمیں بھی شامل ہیں۔

بجٹ میں تعلیم، صحت اور صاف پانی کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان شعبوں کے لیے اربوں روپے رکھے گئے ہیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔ حکومت نے ان شعبوں کی بہتری کو اپنی اہم ترجیح قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت 5 ہزار نئی آسامیوں کی تخلیق کی جائے گی۔ ان آسامیوں میں مختلف محکموں میں بھرتیاں شامل ہوں گی۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts