محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم محرم سے 10 محرم الحرام تک، یعنی 17 جون سے 26 جون 2026 تک یہ پابندیاں نافذ العمل رہیں گی۔
حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران صرف وہی جلوس اور مجالس منعقد کی جا سکیں گی جن کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہو۔ کسی بھی نئی مجلس، جلوس یا روایت کی اجازت نہیں ہوگی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر عوامی مقامات پر اسلحہ، آتش گیر مواد یا دیگر خطرناک اشیا کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح فرقہ وارانہ منافرت، اشتعال انگیز نعروں، بیانات، تبصروں اور ایسے اشاروں پر بھی پابندی ہوگی جو عوامی جذبات کو بھڑکا سکتے ہوں۔
محکمہ داخلہ نے جلوسوں کے راستوں پر واقع عمارتوں کی چھتوں پر مورچے بنانے، اینٹیں، پتھر، بوتلیں یا دیگر اشیا جمع کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ جلوسوں کے دوران راستوں میں موجود عمارتوں کی چھتوں اور دکانوں کے تھڑوں پر بطور تماشائی کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکومت نے 9 اور 10 محرم الحرام کو ڈبل سواری پر بھی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم بزرگ شہریوں، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد محرم الحرام کے دوران امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے جبکہ عوامی آگاہی کے لیے بھی وسیع پیمانے پر تشہیری مہم چلائی جائے گی۔
