پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس کا مجموعی حجم 5903 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ یہ بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.1 فیصد زیادہ ہے۔

بجٹ میں صوبائی محاصل میں 55.4 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو 4390 ارب 94 کروڑ روپے حاصل ہوں گے۔ صوبائی آمدن کا ہدف 1209 ارب 86 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

ٹیکس نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ای پیمنٹ سسٹم کے ذریعے وصولیوں کو شفاف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پراپرٹی ٹیکس سیلف اسسمنٹ اسکیم پر 5 فیصد رعایت دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں 95 سے 99 فیصد تک چھوٹ دی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے کے لیے 750 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سی ایم لیپ ٹاپ پروگرام کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے جبکہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے ایک لاکھ 8 ہزار طلبہ مستفید ہوں گے۔ اسکول میل پروگرام کا بجٹ بڑھا کر 4 ارب روپے کر دیا گیا ہے اور کالجوں میں آئی ٹی لیبز کے قیام کے لیے 24 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے کینسر، دل اور ذہنی صحت کے بڑے منصوبوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مریم نواز ہیلتھ کلینکس اور کلینک آن ویلز بھی بجٹ کا حصہ ہیں جبکہ ہارٹ سرجری، ڈائیلاسز اور ٹرانسپلانٹ پروگرام جاری رہیں گے۔ پہلی بار نیورو کیتھ لیبز کے لیے 1 ارب 75 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ اسٹروک اور ایمرجنسی سروسز کی بہتری کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

معاشی ترقی کے لیے پنجاب پیوٹ منصوبے کے تحت اقدامات تیز کیے جائیں گے۔ آسان کاروبار کارڈ، ایکسپورٹ فنانس، انڈسٹریل اسٹیٹ اور بزنس پارکس کے منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں جبکہ ای بزنس اور ای کامرس ہبز کے فروغ کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 270 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی چھت اپنا گھر اور اپنی زمین اپنا گھر منصوبے بھی جاری رہیں گے۔

زراعت کے لیے 132 ارب 54 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کسان کارڈ کے ذریعے 8 لاکھ 25 ہزار کسانوں کو قرض دیا جائے گا جبکہ گرین ٹریکٹر پروگرام اور ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن بھی جاری رہے گی۔ لائیو اسٹاک کارڈ اور ماہی پروری کے نئے منصوبے بھی بجٹ میں شامل ہیں۔

سماجی تحفظ کے لیے ہمت کارڈ، دھی رانی پروگرام، راشن کارڈ، اقلیتی کارڈ اور رمضان نگہبان پیکیج کے تحت اربوں روپے کی امداد فراہم کی جائے گی۔ جنوبی پنجاب غربت مٹاؤ پروگرام بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بجٹ میں تعلیم، صحت، زراعت اور سماجی تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے عوامی ریلیف پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts