اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن اور وکیل رمشہ اقبال نے الزام عائد کیا ہے کہ ثاقب چدھڑ اور ان کے حامی مختلف فورمز پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے ان کے خلاف درخواستیں جمع کروا رہے ہیں، تاہم یہ تمام درخواستیں بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
رمشہ اقبال کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں انصاف کے حصول کے لیے نہیں بلکہ انہیں ذہنی دباؤ میں لانے اور ہراساں کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ان کے مطابق ایسے ہتھکنڈوں سے انہیں اپنے قانونی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے بار کونسل میں صرف وکیل علی اشفاق کے خلاف درخواست دی تھی، لیکن اس معاملے میں ثاقب چدھڑ کی موجودگی اور مداخلت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
رمشہ اقبال کے مطابق اگر درخواست براہِ راست علی اشفاق کے خلاف تھی تو ثاقب چدھڑ کا اس میں کردار سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ بار کونسل میں کس حیثیت سے موجود تھے اور ان کی موجودگی کا مقصد کیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ قانون اور انصاف کے نظام پر مکمل اعتماد رکھتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ تمام معاملات میرٹ اور شواہد کی بنیاد پر طے کیے جائیں گے۔
