وفاقی حکومت آج اپنا نیا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے جس میں عوام کو ریلیف دینے اور مختلف شعبوں میں ٹیکس اصلاحات کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس بجٹ کو ملک کی معاشی صورتحال کے مطابق ایک اہم بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بجٹ میں خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر توجہ دی گئی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے افراد پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے کچھ ریلیف مل سکے۔
اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کا امکان ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی کچھ نرمی کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد حکومت نے بجٹ میں اس پر غور تیز کر دیا ہے۔
بجٹ میں تاجروں کے لیے ایک نیا فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی بھی توقع ہے تاکہ ٹیکس نظام کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے خصوصی مراعات دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ہاؤسنگ فنانس کے لیے حکومت کی طرف سے دس سال تک کم شرح سود پر قرضوں کی سہولت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاکہ عوام کو گھر بنانے میں آسانی ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق کچھ روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے کاسمیٹکس کی قیمتوں میں کمی کی جا سکتی ہے، تاہم الیکٹرک گاڑیاں، ہائبرڈ گاڑیاں اور لگژری امپورٹڈ گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
مزید یہ کہ سپر ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔ حکومت سابق فاٹا کے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے۔
ریٹیل سیکٹر کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل ٹیکس نظام بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے جس کا مقصد ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران نئی ترقیاتی اسکیمیں شروع نہیں کی جائیں گی اور حکومت صرف ان منصوبوں کو ترجیح دے گی جو دفاع، داخلی سلامتی اور آبی وسائل جیسے اہم شعبوں سے متعلق ہوں گے۔
