وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت مختلف آمدنی کے سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ حکومت نے متوسط اور زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس نظام کو نسبتاً آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک لاکھ تیراسی ہزار روپے سے دو لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپے ماہانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے انکم ٹیکس میں تین فیصد کمی کر دی گئی ہے، جبکہ اس سلیب کی سالانہ ٹیکس شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے لاکھوں تنخواہ دار افراد کو براہِ راست ریلیف ملے گا۔

اسی طرح تین لاکھ اکتالیس ہزار روپے ماہانہ آمدن تک ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی گئی ہے اور اسے 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ چار لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں کو بھی ریلیف دیا گیا ہے اور ان کی ٹیکس شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پانچ لاکھ تیراسی ہزار روپے ماہانہ آمدن والے طبقے کے لیے بھی انکم ٹیکس میں کمی کی گئی ہے اور انہیں اب 35 فیصد کے بجائے 32 فیصد سالانہ ٹیکس دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے تنخواہ داروں پر عائد 9 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

مزید برآں 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن پر سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تاہم بینکنگ، آئل اینڈ گیس اور فرٹیلائزر کمپنیوں پر سرچارج بدستور برقرار رہے گا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts