امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی سطح پر ایک اہم مفاہمت طے پا گئی ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت تمام محاذوں پر جنگ بندی کا اطلاق ہوگا جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات اس دوران بھی جاری رہیں گے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں میں نرمی اس وقت تک نہیں کی جائے گی جب تک ایران طے شدہ شرائط پر عملدرآمد نہیں کرتا۔ اس عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا تاکہ اعتماد سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مراحل میں ہیں اور امکان ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام تک اس پر دستخط ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعد ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی دعوؤں کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔
ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور بعض نکات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن ایران اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے اور تمام معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
