چین نے دنیا کا پہلا تجارتی زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا ہے جو سمندر کی تہہ میں قائم کیا گیا ہے اور زیادہ تر قابلِ تجدید توانائی پر چلتا ہے۔ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ ڈیٹا سینٹر شنگھائی کے قریب لنگانگ فری ٹریڈ زون کے پاس واقع ہے اور سمندر کی سطح سے تقریباً 10 میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔ اسے شنگھائی لنگانگ انڈر سی ڈیٹا سینٹر پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔

اس منصوبے کو شنگھائی ہائیلان یون ٹیکنالوجی اور چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔ یہ مرکز مئی میں باقاعدہ طور پر فعال ہوا اور اس کی مجموعی استعداد 24 میگاواٹ بتائی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 225 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام توانائی کی بچت میں بھی مؤثر ہے اور روایتی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں کم بجلی استعمال کرتا ہے۔

حکام کے مطابق زیرِ آب ہونے کی وجہ سے سمندری پانی قدرتی طور پر کولنگ کا کام کرتا ہے، جس سے سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اضافی وسائل کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح پانی کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔

اگرچہ دنیا میں اس سے پہلے زیرِ آب ڈیٹا سینٹرز کے تجربات کیے گئے ہیں، تاہم چین پہلا ملک ہے جس نے اسے تجارتی سطح پر باقاعدہ طور پر فعال کیا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts