امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس مزید حملوں کا اختیار موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے مختلف مقامات پر 49 ٹوماہاک میزائل داغے۔ ان کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے بھی کارروائی میں حصہ لیا اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس آپریشن میں اسرائیل شامل نہیں تھا اور تمام کارروائی امریکا کی جانب سے کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ آج رات مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تہران، قیشم، بندرعباس، سیرک اور میناب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کے متعدد فوجی اور دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ریڈار اور مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کے جواب میں کی گئی۔ تاہم ایران کی جانب سے ان حملوں پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
