لاہور (سٹاف رپورٹر): پنجاب کے سابق گورنر چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ جنت نظیر کشمیر میں امن و استحکام کے لیے تدبیر اور تعمیر سے کام لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی دانا اور طاقتور ریاست اپنے شہریوں کے خلاف سخت اقدام نہیں کر سکتی، اور پیچیدہ مسائل ہمیشہ مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔
چوہدری محمد سرور نے ڈیوائن گارڈن میں اپنے دفتر میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کو صبر، تحمل اور دانشمندی سے ہینڈل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پائیدار امن کا راستہ ڈنڈے سے نہیں بلکہ قومی ایجنڈے اور بات چیت سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بعد میں بھی مذاکرات سے مفاہمت ہی کرنی ہے تو پھر فوری طور پر بات چیت کیوں نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نامزد اعلیٰ سطحی شخصیات کو مشتعل مظاہرین کے ساتھ ڈائیلاگ کر کے ان کا اعتماد بحال کرنا چاہیے۔
سابق گورنر نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت متعدد آئینی بحرانوں اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اور ایسے حالات میں سنجیدہ اور دانشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کے درمیان فوری طور پر ایک سنجیدہ بیٹھک ناگزیر ہے تاکہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالا جا سکے۔
چوہدری محمد سرور نے کہا کہ اگر پاکستان کو بند گلی سے نکالنا ہے تو تمام فریقین کو اپنی انا قربان کر کے ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھے اور انہیں اعتماد میں لے۔
سابق گورنر نے کہا کہ اپنے ہی ہم وطنوں کو دشمن سمجھنا دانشمندی نہیں۔ جب گھر میں آگ لگی ہو تو دشمن اس پر خوش ہوتا ہے، اس لیے ملک کو اندرونی انتشار سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
