پاکستان مرکزی مسلم لیگ ٹریڈرز ونگ کے زیر اہتمام منعقدہ پری بجٹ سیمینار میں صنعت کاروں، تاجر رہنماؤں اور زرعی ماہرین نے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صنعت، تجارت اور زراعت کے شعبوں کو فوری ریلیف اور کاروبار دوست پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مینو فیکچرنگ کے فروغ، زرعی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے بغیر معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں۔
سیمینار سے صدر لاہور چیمبر آف کامرس فہیم الرحمان سہگل، مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک، لاہور کے جنرل سیکرٹری چوہدری حمید الحسن گجر، پیاف کے رکن مدثر مسعود، چیئرپرسن پنجاب ملی ادب و ممبر لاہور چیمبر ریاض احمد احسان، ایگرووٹ فورم کے صدر ڈاکٹر رضوان سمیت متعدد تاجر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
صدر لاہور چیمبر آف کامرس فہیم الرحمان سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بے پناہ وسائل اور صلاحیتوں کا حامل ملک ہے جسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے درست سمت اور مؤثر قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی ضمانت فراہم کرتی ہے اور قومی ترقی کے لیے تمام طبقات کو مشترکہ آواز بلند کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی 65 فیصد نوجوان آبادی کو آئی ٹی، صنعت اور کاروباری شعبوں میں مواقع فراہم کرکے معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دیگر مقررین نے کہا کہ مینو فیکچرنگ کے فروغ اور کاروبار دوست پالیسیوں کے نفاذ سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بلند شرح سود، مہنگی توانائی اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کو ملکی معیشت اور صنعتی شعبے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے حکومتی اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ زراعت ملکی معیشت کی بنیاد ہے، اس لیے اس شعبے کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زرعی ایمرجنسی کے نفاذ اور خصوصی ایگریکلچر انڈسٹریل زونز کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
سیمینار کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صنعت، تجارت اور زراعت کے شعبوں کو مضبوط بنا کر پاکستان کو معاشی ترقی، خودکفالت اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔
