مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے امریکا اور ایران کے درمیان متوقع تکنیکی مذاکرات کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث سفارتی عمل وقتی طور پر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان پر اسرائیلی بمباری کے بعد ایرانی وفد نے سوئٹزرلینڈ کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا، جس کے نتیجے میں مذاکراتی سرگرمیاں آگے نہ بڑھ سکیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے ابتدائی تکنیکی مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے معروف سیاحتی مقام برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے تھے۔ تاہم خطے میں اچانک پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث ایرانی وفد نے شرکت سے معذرت کر لی، جس کے بعد مذاکراتی عمل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔
ایرانی وفد کی عدم موجودگی کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنا مجوزہ دورہ مؤخر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق امریکی وفد پہلے سے سوئٹزرلینڈ روانگی کے لیے تیار تھا، تاہم شیڈول میں تبدیلی اور مذاکرات کے التوا کے باعث حتمی فیصلہ کیا گیا کہ فی الحال دورہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ مذاکرات مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد نہیں ہو سکیں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اگرچہ تفصیلی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، لیکن صورتحال میں تبدیلی کے باعث پروگرام میں رد و بدل کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر آج سوئٹزرلینڈ روانہ نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق مذاکرات کی حتمی منصوبہ بندی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور اس حوالے سے مزید مشاورت جاری ہے تاکہ نئے شیڈول پر اتفاق کیا جا سکے۔
ادھر اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں عرب میڈیا کے مطابق مختلف علاقوں میں شدید بمباری اور گولہ باری کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ان حملوں میں جانی نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
