ایران کی ایک عدالت نے معروف گلوکارہ پرستو احمدی اور ان کے میوزیکل گروپ "کاروان سرائے کنسرٹ” کے مزید آٹھ ارکان کو انٹرنیٹ پر مبینہ طور پر ناشائستہ مواد شائع کرنے کے الزام میں 74، 74 کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد اس مقدمے نے ایران سمیت بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے مذہبی شہر قم کی ایک عدالت نے سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اسلامی قوانین اور متعلقہ قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے ایسا مواد نشر کیا جسے عوامی اخلاقیات اور معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔

عدالت کی جانب سے پرستو احمدی پر اضافی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ فیصلے کے مطابق گلوکارہ آئندہ دو برس تک ملک سے باہر سفر نہیں کر سکیں گی جبکہ انہیں فن اور موسیقی سے متعلق مختلف سرگرمیوں میں شرکت سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق پیشہ ورانہ اور عوامی تقریبات دونوں پر ہوگا۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ سزا سے متعلق تفصیلات قومی میڈیا میں شائع کی جائیں تاکہ عوام کو مقدمے اور اس کے نتائج سے آگاہ رکھا جا سکے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے انٹرنیٹ پر ایسا مواد پوسٹ کیا جس سے عوامی حیا اور اخلاقی اقدار متاثر ہوئیں۔

یاد رہے کہ ایران میں سوشل میڈیا اور آن لائن مواد کے حوالے سے قوانین نسبتاً سخت ہیں اور حکام وقتاً فوقتاً ایسے معاملات پر قانونی کارروائی کرتے رہے ہیں۔ حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر ملک میں اظہارِ رائے، فنکارانہ آزادی اور سوشل میڈیا ضوابط سے متعلق بحث کو جنم دے دیا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts