وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت ٹیکسیشن، قانون کے نفاذ اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے 650 ارب روپے اضافی آمدن حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

نئے اقدامات کے تحت عام استعمال کی 36 اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ ان میں دودھ، ڈیری مصنوعات، مٹھائیاں، جام، جیلی، کیچپ، مصالحہ جات، خوردنی تیل، گھی، بیکری آئٹمز، شیمپو، ہیئر آئل، جوتے، پرفیوم، باڈی اسپرے، پلاسٹک گھریلو سامان، سینیٹری اشیاء، باتھ روم فٹنگز، سوٹ کیس، سفری بیگ، کچن ویئر اور دیگر روزمرہ استعمال کی چیزیں شامل ہیں۔

حکومت نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی آمدن پر بھی 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سے کمائی جانے والی آمدن بھی ٹیکس کے دائرے میں آئے گی۔

اسی طرح ای سگریٹ، لائف انشورنس اسکیموں اور لگژری گاڑیوں پر بھی ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ بعض صنعتی خام مال اور دیگر اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی لگائی جائے گی۔

دوسری جانب حکومت نے کچھ شعبوں میں ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے اور نئے ٹیکس سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ اور کچھ دیگر شعبوں کو بھی ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے۔

حکومتی دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے مجموعی طور پر 39 ٹیکس اقدامات تجویز کیے ہیں جن میں ریلیف، اصلاحات اور انتظامی تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نظام کو بہتر بنانا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ بعض خدمات، درآمدات اور کاروباری لین دین پر بھی ٹیکس نظام میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ آمدن میں اضافہ کیا جا سکے اور معیشت کو دستاویزی بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts