دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پہلی بار انٹرنیٹ پر مشینوں اور اے آئی پروگراموں کی سرگرمی انسانی سرگرمی سے زیادہ ہو گئی ہے۔
کلاؤڈ ہوسٹنگ کمپنی کلاؤڈ فلیئر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہونے والی مجموعی ٹریفک کا 57.4 فیصد حصہ اب مصنوعی ذہانت، بوٹس اور دیگر خودکار پروگراموں پر مشتمل ہے، جبکہ انسانی صارفین کی سرگرمی کا حصہ کم ہو کر 42.6 فیصد رہ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث خودکار نظاموں کا استعمال غیر معمولی حد تک بڑھا ہے۔ مختلف کمپنیاں صارفین کی مدد، ڈیٹا پراسیسنگ، آن لائن خدمات اور دیگر کاموں کے لیے مصنوعی ذہانت پر زیادہ انحصار کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ پر مشینوں کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
کلاؤڈ فلیئر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میتھیو پرنس کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق اندازہ لگایا گیا تھا کہ مشینوں کی ٹریفک انسانی ٹریفک سے چند سال بعد آگے نکلے گی، لیکن اے آئی کے تیزی سے پھیلاؤ نے یہ مرحلہ وقت سے پہلے ہی حاصل کر لیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل دنیا میں مزید اہم کردار ادا کریں گے۔ تاہم اس کے ساتھ سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ اور آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی جیسے نئے چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں کاروباری اداروں، ویب سائٹس اور آن لائن سروسز کے کام کرنے کے انداز کو بدلنا شروع کر دیا ہے، اور آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہونے کی توقع ہے
